مسلم دنیا کے شدت پسند گروہوں اور ترقی پسند آوازوں کے درمیان کشمکش آئندہ چند دہائیوں تک رہیگی: امام اسامہ – Kashmir Link London

مسلم دنیا کے شدت پسند گروہوں اور ترقی پسند آوازوں کے درمیان کشمکش آئندہ چند دہائیوں تک رہیگی: امام اسامہ

لندن (مبین چوہدری) مسلم ممالک کی حکومتوں اور سینیئر اسلامی علما نے اسلام کو انتہا پسندوں کے نرغے سے دوبارہ حاصل کرنے میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ اس حقیقت کو ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل چینج کی ایک تحقیقی رپورٹ میں آشکار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہے اسلام میں بحث کی کیفیت: نائن الیون کے بعد سے مسلم دنیا میں مذہبی پیش رفتیں اور اسے مسلمان سکالر امام اسامہ حسن نے تحریر کیا ہے۔

یہ رپورٹ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں دہشت گرد حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ کی ایک سیریز کا حصہ ہے جو عالمی سیاسی منظرنامے اور اسلام کے متعلق مباحثوں پر دہشت گردوں کے اثرات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں 2002 کے مکہ اعلامیے سمیت اسلامی سکالرز کے جاری کردہ 120 سے زائد اعلامیے، فتوے اور احکامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے محقق نائن الیون کے بعد سے مسلم دنیا میں جاری بحث کے خاکے بھی پیش کرتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ 20 ویں صدی کے اسلام پر بنیاد پرستوں کے زیر اثر مباحثے کی جگہ 21 ویں صدی کا بیانیہ لے رہا ہے، جو کہ دنیا اور دیگر مذاہب کے لیے زیادہ ترقی پسند اور زیادہ وسعت کا حامل ہے۔ اسامہ حسن لکھتے ہیں کہ اکثر کم رپورٹ ہونے کے باوجود پچھلے 20 برسوں میں انتہا پسند قیادت اور ان کی اسلام کی تباہ کن تشریحات کا مقابلہ کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد سعودی باشندوں خصوصاً خواتین سے بات کی ہے جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر کی جانے والی اصلاحات سے خوش ہیں۔لیکن جو پیش رفت ہوئی ہے اس کے باوجود اسامہ حسن سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان بات چیت اور بحث کے لحاظ سے بلکہ غیر مسلموں سے معاملے میں بھی مزید بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔

امام اسامہ کا کہنا ہے میں متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں گیا ہوں۔ غیر اسلامی دنیا سے رابطہ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کوشاں کمیونٹی کے توسط سے ہوتا ہے جہاں آپ کے پاس بین المذاہب رہنماؤں اور اداروں کی ایک بڑی تعداد ہوگی لیکن مغربی یورپ اور امریکہ میں مذہب کے زوال کی وجہ سے یہ عمل اکثر حکومتی سطح تک نہیں پہنچ پاتا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ افغانستان میں نئے فاتح طالبان، ایران میں خمینی حکومت اور مسلم دنیا کے القاعدہ اور (داعش سے وابستہ) گروہوں اور ترقی پسند مسلم آوازوں کے درمیان کشمکش آئندہ چند دہائیوں تک جاری رہے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes