مساجد پر حملوں جیسے نسل پرستانہ اقدامات بیمار ذہنیت کے عکاس ہیں؛میئر نیوکاسل حبیب رحمان – Kashmir Link London

مساجد پر حملوں جیسے نسل پرستانہ اقدامات بیمار ذہنیت کے عکاس ہیں؛میئر نیوکاسل حبیب رحمان

نیو کاسل (محمد فیاض بشیر) میئر نیوکاسل نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے شہر میں نسل پرستانہ حرکات کے موجب افراد کو واضع کیا ہے کہ عبادتگاہوں پر انکے حملے کسی ایک کمیونٹی کا نہیں بلکہ برطانیہ میں آباد اکثریتی لوگوں کے بھائی چارے کے نظریئے پر حملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیو کاسل کے سالانی میلے میں کیا۔ اس سے قبل وہ مخصوص بگھی میں میلے میں آئے تو عوام نے تالیاں بجا کر انکا استقبال کیا۔

میئر نیوکاسل کا کہنا تھا کہ وہ چند روز قبل مسجد پر نوجوانوں کی جانب سے آتش بازی سے حملہ کرنے اور نسل پرستانہ ابیوز پر مبنی نعرے بازی کرنے کے واقعے پر شدید مشتعل ہیں، 8 نوجوانوں کے گروپ نے ہفتے کی شام عمارت کو ٹارگٹ کیا اور راکٹس سے نمازی بال بال بچ گئے۔ نارتھمبریا پولیس اس حملے کی انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔

حبیب رحمٰن مئی میں میئر منتخب ہوئے وہ پہلے بی اے ایم ای میئر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے راکٹس جلا کر چھوڑنے کی آوازیں سنیں اور دیکھا کہ ان کے ذریعے مسجد میں داخل ہونے والے افراد کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ایک معمر نمازی راکٹ سے بال بال بچ گئے۔ حبیب رحمٰن نے کہا کہ نوجوان فرار ہوگئے اور انہوں نے مجھے بھی نسل پرستانہ فقرے کسے اور کہا کہ تم جہاں سے آئے ہو وہاں واپس چلے جائو۔ واضع رہے میئر حبیب رحمان کے والد 1977ء میں نسل پرستانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے، حبیب رحمان نیو کاسل کے پہلے ایشیائی میئر ہیں۔

حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے میئر کا کہنا تھا کہ میں نے فوری طور پر پولیس کو بلایا، میں نے آتش بازی چلانے کی آواز سنی، میں اندر نماز پڑھ رہا تھا اور جب میں مسجد سے نکلا تو ایک گروپ نے مجھ سے تکرار کی۔ اس کے بعد میرے ساتھ مزید توہین آمیز برتائو کیا گیا۔ پھر مجھے بھی ایک راکٹ سے سیدھا نشانہ بنایا گیا جب کہ نمازیوں کی جانب متعدد میزائل داغے گئے، مسجد کو بھی ان کے ذریعے نشانہ بنایا۔ یہ انتہائی خوفناک صورتحال تھی، یہ مکمل طور پر بیمار ذہن کا مظاہرہ تھا، میں اس واقعے سے خوفزدہ ہوں اور مکمل طور پر مشتعل اور غصے میں ہوں۔

نارتھمبریا پولیس کے انسپکٹر اینڈریو سٹیفنسن نے کہا کہ زبردست اقلیت کی جانب سے اس قسم کا رویہ ناقابل قبول ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes