اوسلو میں معروف کالم نگار محمد طارق کی کتاب’جمہوریت اور جمہور کا کردار‘ کی تقریب رونمائی – Kashmir Link London

اوسلو میں معروف کالم نگار محمد طارق کی کتاب’جمہوریت اور جمہور کا کردار‘ کی تقریب رونمائی

اوسلو (کشمیر لنک نیوز) ادبی تنظیم دریچہ کے زیر انتظام کالم نگار، مبصر اور سیاسی کارکن محمد طارق کی کتاب ’جمہوریت اور جمہور کا کردار ‘ کی تقریب رونمائی اوسلو ناروے میں منعقد ہوئی جس کے پہلے حصے میں کتاب کی رونمائی ہوئی اور کتاب پر ادبی ، سیاسی و سماجی شخصیات نے گفتگو کی۔ آخر میں مصنف محمد طارق نے کتاب کا تعارف پیش کیا، اور شرکاء کے سوالات کے جواب دیے۔ اس حصے کی صدارت سنئیر سیاسی تجزیہ نگار، کالم نگار، مدیر کاروان سید مجاہد علی نے کی- نظامت کے فرائض دریچہ کے جنرل سیکرٹری محمد ادریس لاہوری نے ادا کئے۔ دریچہ کے صدر سید ندیم حسین بھی تقریب کی سرپرستی کے لئے موجود تھے۔

سوشل وینسترے پارٹی درامن کے سیاسی کارکن ناصر گوندل نے کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں جمہوریت، جمہوری نظام کو سمجھنے اور نچلی سطح پر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کس طرح اپنے حقوق کا تحفظ کرکے کسی معاشرے کو پرامن اور خوشحال بنا سکتے ہیں، کو موضوع بنایاگیا ہے- کتاب کے مصنف کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنف کے ساتھ کافی عرصہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہےکہ محمد طارق کا جمہوریت پر یقین پختہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال نہیں ہوسکتا، جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوری اقدار کے مطابق حکومتی نظام فعال نہ ہو۔

سماجی و سیاسی شخصیت حاجی محمد افضال نے کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم مصنف کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔ وہ ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں، مصنف محمد طارق بڑے باپ کا ہونہار سپوت ہے- ان کے والد صاحب کی ناروے میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی خدمات ہیں- محمد طارق صاحب کی کتاب “جمہوریت اور جمہور کا کردار ” پاکستان کے سکولوں کے نصاب میں شامل ہونی چاہیے تاکہ اس کتاب کو پڑھ کر طالب علم جمہوریت ، جمہوری تنظیمی ڈھانچے پر آگاہی حاصل کر سکیں۔

نادیہ جمیل کیانی نے کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کے مصنف نے عوام الناس کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ سیاسی امور پر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کی کم علمی ، اجتماعی نظام کو مخصوص طبقات کا یرغمال بنا دیتی ہے – نادیہ کیا نی نے کتاب کے مختلف ابواب کا مختصر تعارف پیش کیا۔تقریب سے خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے ہوئے مہمان عظمت پرویز نے مصنف محمد طارق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس پہلی ادبی کوشش پر مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ اب یہ اپنے قلم کو رکنے نہیں دیں گے۔ میں چند دن پہلے ہی پاکستان سے ناروے پہنچا ہوں – ابھی تک کتاب میں نے پڑھی نہیں لیکن محمد طارق کو 35 سال کی جانتا ہوں۔ ان کے ساتھ ہم نے مل کر دوسرے ممالک کے کافی دورے کیے ہیں- ایک بات جو میں نے طارق میں دیکھی ہے کہ وہ حالات و واقعات کا مشاہدہ بڑے غور سے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم سب کو مقامی سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

شاعر اور افسانہ نگار سید حیدر حسین نے کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں محمد طارق کو یونیورسٹی کے زمانے سے جانتا ہوں۔ ایک دفعہ دوران تعلیم یونیورسٹی کے دوستوں نے پروگرام بنایا کہ کیوں نہ پاکستان کے غریب طلبا کے لیے کوئی ایسا پروجیکٹ شروع کیا جائے جس سے غریب طلبا اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ ساتھ ہی تعلیم یا تعلیم کے دوران ان کو روزگار فراہم کیا جا سکے- چند مینٹنگز کے بعد یہ پروجیکٹ شروع نہ کیا جا سکا اور سب طالب علم ساتھی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنی اپنی نجی زندگی کے معاملات میں مصروف ہوگئے – 15 سال بعد 2011- 2012 میں اطلاع ملی کہ محمد طارق نے پاکستان اپنے علاقے میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور کوڑے ، گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک ماحولیاتی پروجیکٹ شروع کیا ہے- جس کو چند سال چلانے کے بعد مقامی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا۔

محمد طارق کی جمہوریت پر لکھی گئی کتاب ایک اچھی کوشش ہے – میرے نزدیک پاکستان میں حقیقی جمہوری اقدار کو پنپنے میں ابھی لمبا عرصہ درکار ہوگا- یہ بھی ضروری ہے پاکستان کے طاقتور ادارے اپنے مفادات کی خاطر سیاسی پارٹیوں میں مداخلت سے گریز کریں اور سیاسی عمل کو فطری طور پر آگے بڑھنے دیں۔

تقریب کے صدر سید مجاہد علی نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ہر وقت کوششیں جاری رکھنی چاہیے- گورننس میں بہتری اسی وقت آئی گی جب ان معاشروں کے عوام مایوس ہونے کی بجائے ہر سطح پر جمہوریت، جمہوری عمل کی حمایت پر اپنی جدوجہد و کوششیں جاری رکھیں گے- ایسی ہی کوشش محمد طارق نے یہ کتاب لکھ کر کی ہے – محمد طارق کی اس کوشش پر ہم ان کومبارک باد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ لکھنے کا کام مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے ۔

ادبی تنظیم دریچہ کے صدر سید ندیم حسین نے کہا کہ یہ کتاب میں نے 2 مرتبہ پڑھی ہے، جس میں مصنف قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب تک سیاسی پارٹیوں کے اندر عام کارکن کے لیے جمہوری طریقے سے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں ہوں گے – اس وقت تک نہ سیاسی پارٹیاں ادارے بنے گے اور نہ معاشرے خوشحال ہوں گے۔

الیاس کھوکر صاحب نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان و پاکستانی معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی ضروری کریں لیکن اس کے ساتھ خامیوں کو دیکھتے ہوئے مایوس ہونے کی بجائے معاشرے کو بہتر کرنے میں ہر سطح پر جدوجہد کرنی چاہیے۔

تقریب کے دوسرے حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا۔ مقامی شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد حاصل کی- مشاعرے کی صدارت سیاست دان اور شاعر طلعت بٹ نے کی – مشاعرے میں سید فواد شاہ، علی اصغر شاہد، سید حیدر حسین شاہ، ڈاکٹر ندیم حسین، شبانہ اقبال، سونیا خان، میناجی، رضیہ بی بی ، صدیق راجہ، ڈاکٹر ندیم حسین اور محمد ادریس لاہوری نے اپنا کلام پیش کیا-

50% LikesVS
50% Dislikes