خواتین کے حجاب کی ناقد برطانوی وزیر ثقافت بنتے ہی ایک بار پھر تنقید کی زد میں – Kashmir Link London

خواتین کے حجاب کی ناقد برطانوی وزیر ثقافت بنتے ہی ایک بار پھر تنقید کی زد میں

لندن(کشمیر لنک نیوز) حال ہی میں وزارت کلچر کی ذمہ داری سنبھالنے والی برطانوی ایم پی کی تعیناتی کے فوری بعد ماضی میں انکےاسلاموفوبیا پر مبنی خیالات پر پھر سے بحث چھڑ گئی ہے، انہوں نے ماضی میں نقاب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کےمطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے باڈین ڈوریس نے کی وزارت تبدیل کرتے ہوئے انھیں زیادہ اہم وزارتوں کا قلمدان دیا ہے جن میں وزارت کلچر بھی شامل ہے۔

64 سالہ ناڈین ڈوریس مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر ہمیشہ ہی تنقید کرتی آئی ہیں اور برقع کو “قرون وسطی” کے ڈریس کوڈ سے مشابہت دیتی رہی ہیں۔2018 میں جب بورس جانسن نے متنازع اخباری کالم میں نقاب پہننے والی خواتین کو “بینک ڈاکو” اور “لیٹر باکس” سے مشابہت دی تھی تو ناڈین ڈوریس نے نقاب پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارت کلچر سنبھالنے کے بعد ایک انٹرویو میں ناڈین ڈوریس نے ایک بار پھر اپنے پرانے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ نقاب گھریلو تشدد کے باعث لگنے والے زخموں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلم خواتین کو لباس کے انتخاب کی بھی اجازت نہیں ہوتی بلکہ انھیں تو شادی کے لیے مرد کے انتخاب کی بھی اجازت نہیں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ایک مسلم خاتون صارف کو جواب دیتے ہوئے ناڈین ڈوریس نے برطانیہ میں برقع پہننے والی مسلم خواتین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ قرون وسطی کا لباس ہے جس کی آج کے لبرل معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ترقی پسند ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes