لڑکیوں کی حفاظت کیلئے دہشت گردی سے نبٹنے جیسے اقدامات کی ضرورت ہے؛ برطانوی واچ ڈاگ – Kashmir Link London

لڑکیوں کی حفاظت کیلئے دہشت گردی سے نبٹنے جیسے اقدامات کی ضرورت ہے؛ برطانوی واچ ڈاگ

لندن (مبین چوہدری) برطانیہ میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے نمٹنا اتنی ہی ترجیح ہونی چاہئے جتنی کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کو دی جاتی ہے اس امر کی نشاندہی ایک حالیہ رپورٹ میں کی گئی جسکی تیاری کا خصوصی حکم وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے سارہ ایورارڈ نامی خاتون کے قتل کے بعد دیا تھا، واضع رہے یہ قتل ایک پولیس آفیسر کے ہاتھوں ہوا تھا۔

اس رپورٹ نے پولیس فورسز کے مابین بڑے تضادات کی نشاندہی کی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ا سے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ تاہم ہر میجسٹی انسپکٹوریٹ آف کانسٹیبلری، فائر اینڈ ریسکیو سروسز نے مسلسل ناکامیوں کی نشاندہی کے بعد بنیادی کراس سسٹم تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گھریلو زیادتی کے تین چوتھائی مقدمات مشتبہ فرد پر چارج عائد کئے بغیر جلدی بند کر دیئے جاتے ہیں۔ ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے گھریلو زیادتی کا شکار ہونے میں ناکامی پر معذرت کی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2020 کو ختم ہونے والے سال کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں ایک اندازے کے مطابق 1.6 ملین خواتین گھریلو زیادتی کا نشانہ بنیں۔ 618000خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ 892000خواتین کا تعاقب کر کے انہیں ہراساں کیا گیا۔

ایچ ایم آئی سی ایف آر ایس نے بتایا کہ پولیس میں تشدد کی اس وبا سے نمٹنے میں ایک دہائی کے دوران بہتری آئی ہے۔ اکثر انسپکٹرز نے کہا پولیس نہ تو دوسری ایجنسیوں کے ساتھیوں کے ساتھ کافی قریب رہ کر کام کر رہی ہے اور نہ ہی تشدد کی دھمکی دے رہی ہے۔ یہ ردعمل اس سے بالکل متضاد ہے کہ پولیس نے دہشت گردی سے کا کیسے مقابلہ کیا اور حال ہی میں کاؤنٹی لائنز ڈرگ گینگ سے کس اچھی طرح نمٹا گیا۔ انسپکٹرز نے کہا کہ ان بڑے جرائم کو قومی ترجیحات کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جو کہ واضح توجہ، بہتر فنڈنگ ​​اور مجرموں کی مسلسل تلاش سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اسی ادارے کے ایک انسپکٹر نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ پولیس پچھلے سات برسوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لئے اپنے ردعمل میں بہتری لائی ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ہم عورتوں پر دن بہ دن ہونے والے جرائم کی وسعت اور گہرائی سے پولیس کو نکالنے کے قابل نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی ترجیح میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، پورے نظام میں جرات مندانہ اور انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلز، عدالتیں، اساتذہ اور این ایچ ایس اور دوسروں کے ساتھ توقع کی جانی چاہئے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو اپنا معاملہ سمجھیں گے اور اس کی روک تھام کے لئے مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے یہ ہوشربا انکشاف بھی کیا کہ جب ایچ ایم آئی سی ایف آر ایس نے چار فورسز ایون اور سمرسیٹ، چیشائر، سرے اور ہمبرسائڈ کے ساتھ فیلڈ ورک کیا تو اس نے ان میں سے ہر ایک کو 10 سنگین مقامی مجرموں کی نشاندہی کرنے کو کہا جنہوں نے خواتین کے لئے مسلسل خطرہ لاحق کر دیا ہے۔ 40 افراد میں سے جن کی شناخت کی گئی ہے، 34 کو دراصل فورس کے انٹیلی جنس سسٹم میں زیادہ خطرناک افراد کے طور پر نشان زد نہیں کیا گیا تھا۔

برطانوی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی مشترکہ کمیٹی کی چیئر ہیر ئٹ ہارمن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ رپورٹ کی سفارشات کو نافذ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ صرف شیلف پر دھول اکٹھی نہ ہو۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ حکومت کو چاہئےکہ وہ اس رپورٹ پر عمل درآمد کرے، درحقیقت اس ڈھانچے کو جو اس رپورٹ نے تجویز کیا ہے اور اسے ترجیح دے اور ہمیں ان کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وسائل موجود ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes