اگلی ٹرم عمران خان کی ہی ہے – Kashmir Link London

اگلی ٹرم عمران خان کی ہی ہے

عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ افغانستان میں رونما ہونے والی بہت بڑی تبدیلی ہے جہاں امریکہ شکست سے دوچار ہوا ساتھ میں بھارت کی رسوائی بہت ہوئی ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف تازہ ہزرہ سرائی اسی کا شاخسانہ لگتا ہے وزیراعظم کا خطاب اس موقع پر شاید جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہوا اس لئے وزیراعظم پاکستان کا خطاب بھارتیوں نے سب سے زیادہ سُنا چونکہ یہ خطاب انگریزی زبان میں تھا تو میں قارائین کے لئے خطاب کے متن کے موٹے موٹے نکات تحریر کردیتا ہوں

وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے دنیا کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اس پر ترقی یافتہ ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا اور پاکستان میں دس بلین درخت لگانے کا اپنا کارنامہ دہرایا چونکہ اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اس سے پہلے اسی فلور پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے عمران خان کی درخت لگانے کی تعریف کی تھی

وزیراعظم نے کوویڈ 19 کی گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے بربادیوں، اموات اور پھر معیشت پر اس کے منفی اثرات کا ذکر کیا اور کوویڈ اور لاک ڈاؤن پر اپنی حکومت کے اقدامات اور پاکستان میں جاری احساس پروگرام کے تحت دی جانے والی امداد سے عالمی برادری کو اگاہ کیا

وزیراعظم نے برملا کہا کہ کس طرح ترقی پزیر ممالک سے کھربوں ڈالر بااثر اور طاقتور دولت لوٹ کر منی لانڈرنگ کرتے ہیں اور انہیں یورپ اور دوسرے ممالک میں منتقل کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ترقی پزیر ممالک ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے مغرب میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے اسلام و فوبیا کا ذکر کیا ہے اور اس کے خلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا یہ بھی کہا کہ کس طرح بھارت میں 200 ملین مسلمان بھارت کی ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نفرت آمیز مظالم کا شکار ہورہے ہیں مساجد مسمار کی جارہی ہیں انکی املاک کو برباد کیا جا رہا ہے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا زکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سید علی گیلانی کی میت کو شہیدوں کے قبرستان میں دفنانے نہیں دیا گیا اور نہ ہی لوگوں کو جنازہ پڑھنے دیا گیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی تدفین ورثاء کو کرنے دی جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قومی موقف یہ ہے کہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قرار دوں کے مطابق ہے افغانستان کا زکر کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سویت یونین کے دور میں امریکہ اور پاکستان نے جہادی پیدا کیئے سویت یونین کو افغانستان میں شکست ہوئی تو امریکہ واپس چلا گیا جہادیوں نے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کردیا پھر 9/11 کے بعد پاکستان امریکی اور اتحادیوں کا فرنٹ لائن سٹیٹ بنا اور 80 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور افغانستان میں جو کچھ پچھلے 20 سالوں میں تباہی ہوئی اس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے آج دنیا پاکستان کی قربانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے کہ امریکہ پاکستان سے نکل گیا ہے اور جو Turnover ہوا یعنی طالبان سے چھینی گئی 2001 میں حکومت واپس طالبان کو مل گئی ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے مُسلسل بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہئے پاکستان نے 50 لاکھ مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا طالبان کی اکثریت پشتون بیلٹ ہیں جن کے پاکستان کے لوگوں سے خاندانی مضبوط رشتے ہیں عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے افغانستان اور طالبان کے معاملے پر ایک تسلسل کے ساتھ تواتر سے ایک موقف اختیار کئے رکھا انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات کو بھی دہرایا ہے انہوں اس کے وقت کے سینیٹر جوبائیڈن سینیٹر کیری اور دیگر سے اُس وقت اپنی ملاقاتوں کا بھی زکر کیا عمران خان نے جس طرح پچھلے 45 دنوں میں دنیا کے سامنے پاکستان کا دوٹوک اور واضع موقف اختیار کیا ہے اس سے پاکستان کی پوزیشن میں جو ابہام تھا وہ ختم ہوا یہ بھی اچھا ہوا کہ وزیراعظم امریکہ کے دورے پر نہیں گئے ہیں چونکہ دورے میں امریکی صدر سے ملاقات طے نہیں تھی امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے نریندرمودی کو دعوت دے رکھی تھی

یاد رہے کہ کواڈ اتحاد، جس میں امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں کا پہلا اجلاس اتوار کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوا کواڈ اتحاد میں ایشیا پیسیفک علاقے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بات ہوئی اور اس اجلاس کی میزبانی امریکی صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کی چین نے کواڈ کے اعلامیئے کو مسترد کردیا ہے دوسری جانب وزیراعظم کے ناقدین کا ماننا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر افغانستان کشمیر اور پاکستان کے اصولی موقف پر لچک نہیں دکھائی جس سے انہوں نے اگلے پانچ سال کے لئے پھر اپنی حکومت بنانے کی راہ تو ہموار ضرور کی ہے لیکن ملک کے اندرونی حالات اور مہنگائی کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے پی ٹی آئی کی حکومت جتنے بھی مہنگائی کے بارے میں عُزر پیش کرے عوام کی اکثریت سننے کے لئے تیار نہیں اور اس کا ردِعمل الیکشن میں ضرور ہوگا بشرطیکہ حکومت حالات کو کنٹرول کرلے دوسری جانب ڈیل اور این آر او والے کبھی بلواسطہ اور کبھی بلاواسطہ راولپنڈی سے اپنا رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں موجودہ حالات میں فیصلہ ابھی تک یہی ہے کہ اگلی ٹرم عمران خان کی ہی ہے جس میں صدراتی نظام کی طرف بڑھا جائے گا

50% LikesVS
50% Dislikes