برطانیہ کے ہوٹلوں میں آنے والے مہمان افغان پناہ گزین بچوں کی شرارتوں سے پریشان – Kashmir Link London

برطانیہ کے ہوٹلوں میں آنے والے مہمان افغان پناہ گزین بچوں کی شرارتوں سے پریشان

لندن(کشمیر لنک نیوز) برطانیہ کے ایک ہوٹل میں مقیم افغان پناہ گزین بچوں کی شکایت کرنے پر ہوٹل کے عملے نے اپنے ہاں ٹھہرے مہمانوں کو نسل پرست قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان سے جن افغان خاندانوں کو نکال کر برطانیہ منتقل کیا گیا ہے ان میں سے کچھ خاندان برطانوی شہر سکاربرا کے گرانڈ ہوٹل میں بھی مقیم ہیں اور ان خاندان میں شامل بچے تمام دن ہوٹل میں موج مستی کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہوٹل میں ٹھہرنے والے دیگر مہمان بچوں کے ہلے گلے سے پریشان ہوتے ہیں اور اکثر لوگ ان کی شکایت انتظامیہ سے کر دیتے ہیں۔ اس ہوٹل میں 200سے زائد افغان پناہ گزینوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ا ن کے متعلق مہمانوں کا کہنا ہے کہ ”ہمیں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ پوری ہمدردی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ مستقل رہائش ملنے تک اس ہوٹل میں ٹھہریں تاہم ہمیں ان کے بچوں کے شور شرابے سے پریشانی ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت اودھم مچائے رکھتے ہیں اور جب ہم ان کی انتظامیہ سے شکایت کرتے ہیں تو ہمیں نسل پرستی کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ “

اس تاریخی ہوٹل میں بکنگ کرانے والی دو خواتین نے ان بچوںکی وجہ سے اپنی 338پاؤنڈ کی بکنگ ختم کرادی اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہوٹل کی طرف سے نسل پرست قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا گیا کہ بچوں کی وجہ سے بکنگ کینسل کرنے پر انہیں رقم واپس نہیں کی جائے گی۔ ان میں سے ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ”ہم نے سکیورٹی کے پیش نظر بکنگ کینسل کی تھی۔ ہم قطعاً نسل پرست نہیں ہیں تاہم اپنی سکیورٹی کے متعلق فکر مند ہونا ہمارا حق ہے۔“

50% LikesVS
50% Dislikes