خطرات سے دوچار افغان خواتین ججز کو یورپ لانے کیلئے برطانوی بیرونس کینیڈی کی لازوال جدوجہد – Kashmir Link London

خطرات سے دوچار افغان خواتین ججز کو یورپ لانے کیلئے برطانوی بیرونس کینیڈی کی لازوال جدوجہد

لندن(کشمیر لنک نیوز)افغانستان میں خطرے سے دو چار خواتین ججز کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ یورپ آنے میں مدد کے لیے ایک برطانوی بیرسٹر خاتون نے 13 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم اکھٹا کرلی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بیرونس کینیڈی رضاکار وکلا کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور انہوں نے کابل سے ایتھنز تک کی پروازوں کا انتظام کروایا اور ان کی بکنگ کروائی۔ افغانستان سے انخلا کرنے والے کئی افراد یونان کے شہر ایتھنز میں عارضی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

بیرونس کینیڈی نے پہلا طیارہ تین ہفتے پہلے چارٹر کروایا تھا، جس میں 26 خاتون ججز اور ان کے اہلِ خانہ آئے تھے۔ اس کے بعد کی دو پروازوں میں 375 افراد تھے جس میں سے 77 خواتین ججز تھیں۔یونان کی صدر اور سابق جج کترینہ ساکیلاروپولو کو بیرونس کینیڈی نے مذکورہ خاندانوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے پر قائل کیا ہے۔جارجیا کی حکومت نے بھی ان خاندانوں کے ٹرانزت کی اجازت دے دی ہے۔

بیرونس کینیڈی کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو جان کا خطرہ تھا۔ یہ خواتین گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں پر عدالتیں چلا رہی تھیں۔ ان میں سے کئی نے طالبان کو قید کی سزائیں دی تھیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیسے ہی طالبان واپس آئے ان (خواتین ججز) کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ہم نے ان خواتین کی کیسز لڑنے پر حوصلہ افزائی کی تھی اور اب وہ خطرے میں تھیں۔ اگر احساس رکھنے والا ہر ملک 10 خاندانوں کو پناہ دے دے تو بہت اچھا ہوگا۔

اپنے شوہر کے ساتھ یورپ پہنچنے والی 33 سالہ جج موناسا ناصری کا کہنا تھا جہاز میں ایسا ایک شخص نہیں تھا جو رو نہ رہا ہو۔ ہم دو مہینوں سے دربدر ہو رہے تھے اور ہم ڈرے ہوئے تھے۔ میرے والد اتنے ڈپریسڈ تھے کہ مجھے لگا ان کی جان چلی جائے گی۔

دو یتیم بھائی، 18 سالہ ولی اور 19 سالہ وہاب بھی جہاز پر تھے۔ ان کی والدہ قادریہ یاسینی کا شمار افغانستان کے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون ججز میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کو جنوری میں قتل کر دیا گیا تھا۔بیرونس کینیڈی انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن میں انسانی حقوق کی ڈائریکٹر ہیں۔ اس ادارے نے افغانستان میں خواتین ججز اور وکلا کی ٹریننگ کی تھی۔

انخلا کے عمل کے تحت بیرونس کینیڈی نے کابل اور مزار شریف میں پناہ گاہوں کے قیام کی بھی سرپرستی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اب بھی 100 خواتین ججز پھنسی ہوئی ہیں اور انشورنس کی رقم کی وجہ سے انہیں وہاں سے باحفاظت نکالنے کے لیے مزید 13 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes