سکاٹ میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستانی وفد وطن عزیز کے حوالے سے متحرک – Kashmir Link London

سکاٹ میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستانی وفد وطن عزیز کے حوالے سے متحرک

گلاسگو (کشمیر لنک نیوز) ایشیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث لوگوں کو معاشی اور اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، سیلاب کے اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے سکاٹ لینڈ میں ہونے والی عالمی موسمیاتی سربراہی کانفرنس کی مناسبت سے منعقدہ بین الاقوامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا عنوان ”بڑے پیمانے پر فطرت پر مبنی حل کے ذریعے ایشیا میں موافقت کو تیز کرنا“ تھا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی ایک تازہ تحقیق میں پاکستان، بھوٹان، انڈونیشیا، پاپوا نیوگنی، سری لنکا، تھائی لینڈ، تیمور لیسٹی، ازبکستان اور ویتنام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے لحاظ سے ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک کی درجہ بندی میں شامل کیا ہے۔ملک امین اسلم نے کہا کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے برسوں میں گرمیوں کے مہینوں میں ایشیا میں شدید بارشوں کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان سمیت موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی کلائمیٹ فنانس کا محض 25 فیصد رکھا گیا ہے جو ناکافی ہے۔

ملک امین اسلم نے عالمی موسمیاتی بحران کے ذمہ دار امیر ملکوں پر زور دیا کہ وہ عالمی کلائمیٹ فنانس کے لئے60 فیصد تک اضافہ کریں تاکہ غریب ممالک عالمی موسمیاتی بحران کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے اثرات سے بچ سکیں۔ کورونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی آفت ہے جو حالیہ انسانی تاریخ میں بدترین ثابت ہوئی، اس بیماری کا پھیلنا فطرت کا انسانوں سے جنگلی جانوروں کے مسکنوں پر قبضہ کا انتقام ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی نے فطرت پر مبنی حل کے لیے پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے شرکاءکو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت پہلے ہی ریچارج پاکستان پروگرام کو شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریچارج پاکستان پروگرام کو خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں سندھ کے 1300 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے مخصوص مقامات پر لاگو کیا جائے گا۔ ان جگہوں کا انتخاب سیلاب کے خطرات، آب و ہوا کے تخمینوں، پانی کے ذخیرہ کرنے، ریچارج کی صلاحیت اور آبادیوں کی ضروریات کے پیش نظر کیا جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes