مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ جو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل طلب ہے،راجہ فہیم کیانی – Kashmir Link London

مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ جو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل طلب ہے،راجہ فہیم کیانی

برمنگھم(کشمیر لنک نیوز) جب تک مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، مسئلہ کشمیر کوئی دوطرفہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل طلب ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، نریندر مودی کے دورہ برطانیہ اور اٹلی کے دوران احتجاج کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مودی جیسے دہشت گرد کو گلے نہ لگایا جائے، اس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، وہ دہشت گرد انسانیت کا قاتل اور دشمن ہے، سفارتی محاذ پر بھارت کو ہر جگہ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے مقبوضہ کشمیر کے حالات سنگین صورت حال اختیار کر چکے ہیں، ساری حریت قیادت جیلوں میں بند ہے، سید علی گیلانی کو 12 سال گھر میں نظر بند رکھاگیا اور وہ شہید ہوگے، تحریک حریت کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کو جیل میں شہید کیا گیا، دیگر حریت رہنمائوں کی زندگیوں کوبھی شدید خطرہ ہے ، بھارت مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے جو ہتھکنڈے اور سازشیں کر رہا ہے، دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، اس سے کشیدگی میں مذید اضافہ ہوگا اور بھارتی مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔

تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی اور یورپ کی سرگرمیوں پر روشن ڈالی،اجلاس سے تحریک کشمیر برطانیہ کے جنرل سیکرٹری حافظ آزاد چوہدری، نائب صدر مفتی عبدالمجید ندیم، ڈپٹی جنرل سیکرٹری چوہدری محمد لقمان، ملک رفیق طاہر، چوہدری محمد یاسین، چوہدری زاہد اقبال، فرخ مراد قریشی، خواجہ محمد سلیمان، اعظم فاروق، ڈاکٹر اشفاق لون، چوہدری جاوید عزیز، منیر احمد رضا ، چوہدری محمد یوسف نے خطاب کیا اور تحریک کشمیر برطانیہ کی سرگرمیوں کا خصوصی طور پر جائزہ لیاگیا، اجلاس میں آئندہ چھ ماہ کے لیے مختلف پروگراموں پر غورو خوض کیا گیا، تنظیمی امور، یوتھ کانفر نس ، زونل کانفرنسزاور دس دسمبر کو انسانی حقوق کا دن منانے کا فیصلہ کیا گیا، اعظم فاروق کو مرکزی خازن مقرر کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کے رہنما نذیر قریشی کی ہمشیرہ کے انتقال پر ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes