کورونا پابندیوں میں نرمی کے بعد والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی فورم لندن کے زیراہتمام مشاعرہ – Kashmir Link London

کورونا پابندیوں میں نرمی کے بعد والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی فورم لندن کے زیراہتمام مشاعرہ

لندن (امجد مرزا) لندن میں کوویڈ 19کے بعد ڈیڑھ سال بعد لندن کی معروف ادبی و سماجی تنظیم ”والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی فورم لندن“ کی جانب سے عظیم الشان مشاعرے کا اہتما م کیا گیا۔لوگوں کی اپنی عائد کردہ پابندیوں، کرونا کے ڈر،خوف کے باوجود ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مہمانوں کی تواضع بہترین ریفریشمنٹ سے کی گئی۔ تنظیم کے بانی و جنرل سیکریٹری امجد مرزا امجدؔ نے تما م احباب کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ اور تنظیم کے صدر ڈاکٹر رشید اختر کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی جن کے بعد مشاعرے کی صدارت کے لئے تالیوں کی گونج میں معروف صحافی،شاعرہ،کالم نگار ”دھنک لندن “ اخبار کی بانی و مدیرہ اعلیٰ سیدہ کوثر کو سٹیج پر بلایا۔ ان کے بعد مہمان خصوصی معروف صحافی شاعر کئی کتابوں کے مصنف ماہانہ ”قندیل ادب“ کے مدیر اعلیٰ و بانی عبد الرزاق رانا اور مہمان اعزازی معروف شاعر محمد ارشاد خان کو سٹیج پر دعوت دی۔

امجد مرزا نے کرونا کے دوران وفات پانے والے ان دوستوں کو یاد کرکے ان کے بارے میں تفصیل سے تعارف کرایا جن میں فاروق قریشی،ڈاکٹر شوکت نواز خان، عادل فاروقی، ابراھیم رضوی،راغب دہلوی،زاہد اسلم،آغا شمس الدین شامل ہیں جو اس مشاعرے میں تواتر سے شرکت کیا کرتے تھے۔فاروق قریشی اور ڈاکٹر شوکت نواز تنظیم کے صدور بھی رہے۔ان تمام مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔جو شعرا و ممبران بیمار ہیں ان کے لئے دعائے صحت کی گئی۔ نظامت کے فرائض حسبِ معمول امجد مرزا نے اپنے خاص اور زندہ دلی والے انداز میں ادا کئے۔مشاعرے کی ابتدا قرآن پاک کی تلاوتِ مبارکہ سے راجہ محمد الیاس نے کی۔ امجد مرزا نے ایک نظم پنجابی کی اور ایک اردو کی غزل ترنم سے سنائی جس پر خوب داد دی گئی۔ان کے بعد اقبال گل،محمد جہانگیر، محمود علی محمودؔ،عبد القدیر کوکبؔ، اسلم چغتائی، شاہین اختر شاہینؔ،نجمہ شاہین،راجہ محمد الیاس، چوہدری محبوب احمد محبوبؔ نے اپنا اپنا کلام سنا کر خوب داد وصول کی۔

آخر میں امجد مرزا نے اسٹیج کے مہمانوں میں سے مہمان اعزازی محمد ارشاد خان کو دعوت کلام دی،جن کے بعد مہمان خصوصی عبد الرزاق رانا صاحب اور آخر میں آج کے مشاعرے کی صدر محترمہ سیدہ کوثر کو دعوت کلام اور صدارتی خطبہ کی دعوت دی۔ انہوں نے آج کے مشاعرہ کی جو ڈیڑھ سال کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا دعائیہ کلمات کے ساتھ مشاعرے کے روح رواں امجد مرزا امجدؔ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے دلی خوشی ہوئی کہ امجد مرزا نے لندن میں مشاعرے کی دوبارہ ابتدا کرکے زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں ایک اہم رول ادا کیا آپ نے سابقہ چودہ برس سے مشاعروں کے انعقاد کرکے ادب کو زندہ رکھا۔مجھے امید ہے کہ حسب معمول ہر ماہ کی پہلی اتوار کو ان مشاعروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔آپ نے نہایت خوبصورت کلام پیش کرکے بھرپور تالیوں کی گونج میں داد پائی۔آخر میں تمام شرکاء کی گروپ فوٹو لی گئی۔اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مشاعرے کے اختتام پہ ممبر سازی بھی کی گئی جس کے لئے تمام موجود شرکاء نے ممبر سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes