برطانوی تحقیقاتی ادارے کا پاکستانی نژاد بزنس مین نثار افضل کیخلاف 50ملین فراڈ کیس بند، اثاثے بحال کرنے کا حکم – Kashmir Link London

برطانوی تحقیقاتی ادارے کا پاکستانی نژاد بزنس مین نثار افضل کیخلاف 50ملین فراڈ کیس بند، اثاثے بحال کرنے کا حکم

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانوی حکام نے برٹش پاکستانی تاجر نثار افضل کے خلاف50 ملین پونڈ کے مارگیج فراڈ کیس میں پاکستان اوربرطانیہ دونوں مقامات پر کرمنل تفتیش 15 سال بعد ختم کردی اور ان کے ضبط کردہ اثاثے ان کو واپس کردیئے ہیں اور اب نہ تو ان کی گرفتاری کے وارنٹ باقی رہے ہیں اورنہ ریسٹرنٹ آرڈر۔ برمنگھم مارگیج فراڈ کیس اپنی نوعیت کے اعتبار سے برطانوی تاریخ کا سب سے بڑا کیس بن گیا تھا اور نثار افضل 2006 میں تفتیش شروع ہونے پر پاکستان آگئے تھے۔

انھوں دعویٰ کیا تھا کہ انھیں زبردست سازش کے تحت غلط طورپر اس کیس میں پھنسایا گیا ہے اور موجودہ حالات میں انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ایس ایف او نے تصدیق کی ہے کہ ویسٹ مجسٹریٹ سے 24 جولائی 2006 کو حاصل کردہ ریسٹرنٹ آرڈرز اب ختم کردیا گیا ہے اور اب ان کے خلاف ایس ایف او کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور کرمنل جسٹس ایکٹ 1987 کے تحت ان کی گرفتاری کیلئے حاصل کردہ وارنٹ گرفتاری ڈائریکٹر ایس ایف او نے واپس لے لیا ہے۔ سائوتھ وارک کرائون کورٹ نے سیریس فراڈ آفس کی جانب سے عدالت میں دی جانے والی درخواست پر ریسٹریننگ آرڈر اور وارنٹ گرفتاری ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عزت مآب جج گریو کیو سی نے بتایا کہ اب نثار افضل کے خلاف کرمنل کیس پر کارروائی نہیں کی جائے گی اور فائل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عدالتی احکام میں کہا گیا ہےکہ عزت مآب جج ایلون کی جانب سے 24 جولائی2006 کو جاری کئے گئے ریسٹرنٹ آرڈر ختم کردیئے گئے ہیں۔

برمنگھم مارگیج فراڈ کیس کو ایس ایف او کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی اور نیب راولپنڈی کے اشتراک سے زیرتفتیش لایا جانا والا سب سے بڑا اور پیچیدہ مقدمہ قرار دیا جاتا ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے نیب کو لکھے جانے والے اسی خط میں این سی اے نے نیب کے ایک سینئر رکن سے کہا تھا کہ وہ آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے کہ اس معاملے میں ہمارے تعاون اور نیب کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی روشنی میں ایس ایف او افضل فیملی کے 1.53 ملین پونڈ ضبط کرنے میں کامیاب رہا۔ نثار افضل 2006 میں برطانیہ سے پاکستان چلے گئے تھے، انھیں مارگیج فراڈ کیس میں نامزد کیا گیا تھا لیکن ان کو کبھی چارج نہیں کیا گیا اور وہ پاکستان سے برطانیہ میں اپنے وکلا کے ذریعے اس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ ایس ایف او کے مطابق 50 ملین پونڈ کا برمنگھم مارگیج فراڈ 2004 اور 2006 کے درمیان ہوا تھا اور اس جرم میں فریب سے منی ٹرانسفر کے 2 اور فریب سے منتقل کی گئی رقم وصول کرنے کے 4 الزامات شامل تھے۔ تفتیش کی ابتدا میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت نے افضل کے منجمد بینک اکائونٹ میں موجود تمام رقم ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، اب یہ فنڈ ریلیز کردیئے گئے ہیں۔

ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت نے نثار افضل کی گرفتاری کیلئے وارنٹ جاری کردیئے تھے لیکن برطانوی حکومت نے حکومت پاکستان سے کبھی برطانیہ میں مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے ان کی حوالگی کی بات نہیں کی۔ سیریس فراڈ آفس نے اس رپورٹر کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ اس کا خیال ہے کہ نثار افضل اپنے ساتھ 26 ملین پونڈ لے گئے تھے۔ ایس ایف او کے ترجمان نے جنگ کو بتایا تھا کہ ہم نثار افضل کو مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے برطانیہ واپس نہیں لانا چاہتے، ہمارے پاس ان کی گرفتاری کے وارنٹ ہیں، اگر وہ برطانیہ واپس آئے تو ان کو چارج کیا جائے گا۔ ہم اس مرحلے پر ان کی حوالگی یا پاکستانی حکام سے رابطے کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ نثار افضل کے ایک وکیل نے جنگ کو بتایا کہ نثار افضل کو پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رہنما کی ہدایت پر، جو 2011میں حکومت میں تھے، پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا، یہ کیس بھی دوسرے مقدمات کی طرح مختلف موڑ لیتا رہااور 15 سال گزرنے کے باوجود اب تک نہ صرف موجود ہے بلکہ پاکستان میں نثار افضل کے اغوا کا واقعہ ہوا اور ان کے چھوٹے بھائی نے دبائو کے تحت جرم کا اعتراف کیا۔ اگر نثار افضل کا دفاع حقیقت پر مبنی تھا تو سیریس فراڈ آفس نے مقدمے کو ملتوی کرنے اور کھلی عدالت کو قبول کرنے کی صورت میں کامیابی کی کوئی امید نہیں تھی، اس مقدمے میں ملوث بیشتر ملزمان رہا کردیئے گئے یا ان پر جیوری میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

آخرکار ایس ایف او کو نثار افضل کو مجرم ثابت کرنے کیلئے ان کے خلاف وافر ثبوت نہ ملنے کے سبب نثار افضل کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ نثار افضل کے بھائی صغیر افضل اور بینکنگ کے ماہر Ian McGarry کو بھی 6 دیگر سالیسیٹرز کے ساتھ، جنھوں نے ان کی جانب سے پراپرٹی کی ٹرانزکشنز کی تھیں، کو بھی چارج کیا گیا تھا لیکن ٹرائل کے دوران ان میں سے 3 کو بری کردیا گیا اور دیگر3 کے بارے میں جیوری کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔ ایس ایف او کے تفتیش کاروں نے ستمبر 2018 میں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں تسلیم کیا تھا کہ نثار افضل مسلسل اپنے بے قصور ہونے اور اختیارات کے غلط استعمال پر زور دے رہے ہیں اور اگر افضل کا موقف درست ثابت ہوا کہ وہ مجرمانہ سازش میں شریک نہیں تھے تو ایس ایف او فائل بند کردے گا۔ نثار افضل پر ان الزامات پر کبھی چارج نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ان کے بھائی کو سزا ہوئی تھی لیکن ایس ایف او کی خواہش تھی کہ نثار افضل برطانیہ واپس آکر مقدمات کاسامنا کریں، تاہم نثار افضل اس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ اسی وقت برطانیہ واپس آئیں گے جب ایس ایف او تحریری طورپراس بات کی تصدیق کرے کہ اس نے برطانیہ اورپاکستان میں اس مقدمے کی ہر پہلو سے مکمل تصدیق کے ساتھ تفتیش مکمل کرلی ہے۔ انھوں نے ایس ایف او سے کہا تھا کہ وہ برطانوی اورپاکستانی ہائی کمشنر کے ذریعے تفتیش کرے کیونکہ اس سے ان کو دفاع میں مدد ملے گی لیکن ایس ایف او نے ایسا نہیں کیا، تاہم ایس ایف او نے جب ضرورت محسوس کی پاکستانی حکام سے مدد حاصل کی۔ نثار افضل کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر نثار خود اپنے شواہد پیش کرتے تو ایس ایف او ان کو حقیقی تسلیم نہیں کرتے۔

دوسری طرف این سی اے سرگرمی کے ساتھ تفتیش اور شواہد جمع کرنا نہیں چاہتی تھی۔ وکلا کا کہنا ہے کہ یہ بڑی ناانصافی ہے کہ معاملے کی تفتیش نہیں اور وہ شواہد نہیں حاصل کئے گئے جن کی بنیاد پر منصفانہ ٹرائل ہوسکتا تھا، قانون کی بالادستی قائم ہوسکتی تھی اور نثار افضل بری ہوسکتے تھے۔ وکلا نے قانونی خط وکتابت میں ایس ایف او پر زور دیا تھا کہ ایس ایف او نے جو کارروائیاں کی ہیں، جن میں اثاثوں کی ضبطی شامل ہے، زیادتی کے مترادف ہے کیونکہ نثار افضل مکمل شواہد جمع کئے جانے کی صورت میں مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار تھے۔ نثار افضل کے بھائی صغیر افضل کو 2011 میں ان دنوں 10 سال قید کی سزا ہوئی جب نثار افضل کو پاکستان میں اغوا کیا گیا تھا اور صغیر کے وکلا نے اپیل کورٹ کو بتایا تھا کہ صغیر کبھی کسی کرمنل کام میں ملوث نہیں رہا اور اس نے انتہائی دبائو پر جرم تسلیم کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اہم شواہد پہلے پاکستان میں جمع کئے جانے چاہئیں جو ایس ایف او نے جمع نہیں کئے اور عدالت کو مقدمہ پر تمام شواہد جمع کرنے پر ہی کارروائی کرنی چاہئے۔ ایس ایف او کے نام نثار افضل کے وکلاکے ایک خط کے مطابق اپیل کی سماعت کے وقت ایس ایف او یا اپیل سے متعلق حکام یا پاکستانی حکام نےکوئی انکوائری نہیں کی، وہ سمجھتے ہیں کہ اہم معلومات، جن سے عدالت کو صغیر افضل کی جانب سے پیش کئے جانے والے موقف کو سمجھنے میں مدد ملتی، عدالت میں پیش نہیں کئے گئے۔

پورے15 سال تک نثار افضل اپنے خلاف کرمنل کیس کو غلط قرا ر دیتے رہے اور اس بات پر زوردیتے رہے کہ وہ اختیارات کے غلط استعمال کا نشانہ بنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایس ایف او عبدالاجرام سے، جو بقول ان کے اس میں ملوث تھے، مناسب طرح سے تفتیش نہیں کرسکا۔ اس دوران نثار افضل کے اثاثے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم پر منجمد رہے۔ نثار افضل کے وکلا نے ان کی جانب سے ایس ایف او کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے خلاف وافر شواہد پیش کئے اور ایک طویل عدالتی جنگ کے بعد آخرکار اب ایس ایف او نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس نے نثار افضل کے خلاف عدم شواہد کی بنیاد پر مقدمات اور تفتیش بند کردی ہے، اس لئے ان کے اثاثے ان کو واپس کردیئے جائیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اب نثار افضل نے قانونی کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes