ممکن کہاں ہے رات میں سورج نکالنا – Kashmir Link London

ممکن کہاں ہے رات میں سورج نکالنا

پروگریسو رائیٹر سیاسی و سماجی ممتاز راہنما، ولولہ انگیز شخصیت محترم تنویر زمان خان کی کتب روزِ آشنائی اور حلقہِ زنجیر میں زباں” کے لئے تقریبِ رونمائی کا اہتمام نومبر کی اک خنکی بھری حسین شام کو لندن کے ایک مقامی ہوٹل میں تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے چئیر مین مشتاق لاشاری صاحب نے کیا اس موقع پر بشمولِ تنویر زمان خان صاحب جنہوں نے بھاری اکثریت کے اجتماع میں تصانیف اور مصنف پر اظہارِ خیال کیا ان میں ترتیب وائیز پروفیسر امین مغل صاحب ، مظہر ترمزی صاحب ، سیدہ کوثر منورصاحبہ ، شہر بانو بخاری صاحبہ ،طلعت گل صاحبہ کے ہمراہ اشفاق بھائی ہیں۔ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ انہوں نے مجھے اوائلِ اشاعت اور سحرِنموِ پہچان اپنی کتب بصد احترام پوسٹ کیں اس وقت وہ پوسٹ میں نے سوشل میڈیا پہ شئیر کی تھی اور تبھی اُن سے وعدہ کیا تھا کہ انکی کتبِ تقریبِ رونمائی میں لازمی شامل ہوؤں گی تو انہوں نےمجھے اب اس موقعِ خاص پہ یاد رکھا اور میرا وعدہ یاد کروایا کہ سیدہ صاحبہ آپ نے لازمی آنا ھے اور کچھ کہنا بھی ہے میں تہہ دل سے انکی ہمہ جہت شخصیت کے تابندہ اوصاف کا برملا اظہار کرتے ہوئے انکی ممنون و شکر گزار ہوں کہ مجھے اپنے لمحاتِ جاوداں میں یاد رکھتے ہیں۔ مانا کہ کچھ تعلقات میں اعتماد اور بھروسے کے لئے کبھی کبھی بہت وقت درکار ہوتا ہے مگر کامریڈ تنویر زمان خاں صاحب سے تعلق کی ڈور روز اوّل سے ہی انکی اپنی شاندار سلجھی ہوئی شخصیت کے باعث اور انکے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہی رہی ہے اور آج کی تقریب کے لئے ہفتہ بھر قبل مصنف کی کتب کی تقریب رونمائی کے لیے جب ان کا میسج ملا تو یقیننا یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ میں اس پروگرام میں شامل ہوتی۔ روزِ آشنائی جس کا موضوعِ ثانی “ آو کریں اک سماج پیدا “ اور کتابِ ثانی حلقہ زنجیر میں زباں۔ مصنف نے اس کتاب کو بھی وضاحت کے دائرے میں رکھا ھے “ تحریریں جو سماج بدل دیں “۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کی دونوں کتب اعلی درجہ کی علمی و سیاسی بصیرت پہ مبنی ہیں۔ وہ بصیرت جو پاکستان کی کالے قانون سے ٹکر لینے اور جہدِ کربناک کی روشن و تابندہ آپ بیتی کا گماں سمیٹے ہے۔ مجھے ان معیاری و شاندار جلد بندی پہ مشتمل مطالعہ ِکتب کے دوران جس چیز نے مکمل طور پہ جکڑے رکھا وہ حادثہِ اوّل سے عمرِ پختہ تک مصنف زمان صاحب کی سوچوں کی پختگی اور فیصلوں کا اٹل ہونا ہے ۔ آپ سبھی احباب جو یہاں اس منفعت بخش تقریب رونمائی کا حصہ ہیں یقیننا ان کی کتب کا مطالعہ کر چکے ہوں گے اور متفق ہونگے کہ زمان خان صاحب نے محض اپنے واضح اور پروگریسونظریات کی خاطر اس وقت کے سامراجی دور میں جن صعوبتوں اور قید و بند کی تکالیف کو جوانمردی سے برداشت کیا اور کسی بھی حالت میں اپنے پایہ استقلال میں جھول نہیں آنے دیا۔ وہ بذات خود ایک تحریک کا موجب ہے۔ انہوں نے عوامی جمہوری سوشلسٹ پاکستانی معاشرے کی بنیاد کے لئے انتھک جدوجہد کے دوراں جو ناقابلِ برداشت قید کاٹی جلا وطنی کا دکھ سہا ۔۔ یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ۔

پڑتا ہے کارِ ظلم میں دریا کنگھالنا
ممکن کہاں ہے رات میں سورج نکالنا

ہوتا ہے بس یہ کام مصنف کے ہاتھ میں
آساں نہیں ہے روح کو پتھر میں ڈھالنا

کب تک بچائے گی تُو ہمیں زندگی یہاں
اچھا نہیں یہ موت کو ہر بار ٹالنا۔

ان دونوں کتابوں کے مطالعہ سے ہٹ کر سبھی ساتھی ،کامریڈ 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے حالات و واقعات سے واقف ہیں اس دور سیاہ کے اندرونی و بیرونی تضادات اور عالمی سطح پہ سامراجی ہٹ دھرمی کے زمانے میں لاتعداد و بیشمار سیاسی کارکن کسی نہ کسی حوالے سے گم گشتہ دہر ہو چکے ہیں مگر زمان صاحب نے ہر مصیبت و تکلیف کے بدلے اک نئی شمع جلائی ، سچ کہنے اور لکھنے کا عزم ۔ ظلم و استحصال کے سامنے اپنے وجدان و علم کی ڈھال جس مضبوطی سے تھامی وہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے اور ہر نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے ۔۔ان کا یوٹیوب چینل ٹی زیڈ کے۔ اور تسلسل سے کالمز کی اشاعت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مصنف نے سیاسی ۔سماجی معاشرتی دشت میں اپنے اندازِ فکر اور تجزیہ نگاری کے گھوڑے دوڑائے رکھنے کا پختہ عزم کر رکھا ھے۔ مصنف کی ذات کا ہر پہلو نہائیت باریک بینی سے جاننے لائق ہے۔ ان کی کتب انکا چینل انکے کالمز اور ذاتی زندگی میں تعلقات معاشرتی حوالے سے انکی کاوشیں اور فلاحی امور کی انجام دہی ۔ کمیونٹی کو یک جان و یک جہت رکھنے کی شبانہ روز محنت ۔ اور پھر ان کی فطرت کی وہ بے نیازی کہ جسے کسی طمع۔ و لالچ کا شغف نہیں ہوتا جو سب ساتھیوں کو ساتھ لےکر چلنے کا سلیقہ رکھتا ہے ایک ایسا راہنما جو راستہ بناتا ہے اپنے آنے والی نسلوں کے لئے جو شمع روشن کرتا ہے اندھیروں کے زوال کے لئے جو دریا پاٹتا ہے مثلِ موسی کہ اپنی بھیڑوں کو پرآشوب قومیتوں اور اقلیتیوں کی نفرت میں لتھڑے ہوئے دور سیاہ سے بحفاظت نکال لے جائے۔بلاشبہ مصنف ہر ہر قدم پہ۔ ہر ہر گام پہ۔ ہر ہر کاوش پہ ہر ہر تصنیف پہ۔ ہر ہر تحریر پہ سراہے جانے کے قابل ہیں۔

محبتوں سے مہکتے گلاب لائے گی
ہماری سوچ نئے انقلاب لائے گی
جو ہم نے مانگ لیے زندگی سے اچھے دن
ہمارے واسطے کیوں کر خراب لائے گی
میں لکھ رہی ہوں جو تحریر دل سے کوثر جی
یہ سب کی روح میں کچھ اضطراب لائے گی

کامریڈ تنویر زمان خان سے امید کی جاتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور سماج کی سیوا کا کام یونہی جاری و ساری رکھیں گے اور آئیندہ نسل کے لئے یونہی علم و شعور کے دئیے جلاتے رہیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes