کورونا مریضوں کی دن رات شفایابی میں مصروف ایک اور برٹش پاکستانی ڈاکٹر خود موت میں آغوش میں چلے گئے – Kashmir Link London

کورونا مریضوں کی دن رات شفایابی میں مصروف ایک اور برٹش پاکستانی ڈاکٹر خود موت میں آغوش میں چلے گئے

لندن (عمران ظہور) تمام تر حفاظتی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا مریضوں کا دن رات علاج کرنے والے برٹش پاکستانی جی پی دوران خدمات اسی بیماری کا شکار ہوکر دار فانی سے کوچ کرگئے، کمیونٹی کا بھر پور خراج عقیدت۔ واضع رہے ڈاکٹر حیلم مرحوم کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے تھے اور اب بوسٹر ڈوز کے منتظر تھے۔ 45سالہ ڈاکٹر عرفان حلیم کی غمزدہ بیوہ سائلہ حلیم نے انکشاف کیا کہ مرحوم نے ویسٹ لندن کے رائل برومپٹن ہسپتال میں وائرس کے ساتھ نو ہفتے کی طویل جنگ کے بعد جان کی بازی ہاری۔

سائلہ حلیم کے مطابق ان کے شوہر لندن کے مضافاتاتی علاقے سونڈن میں کام کرتے تھے، وہ نہیں جانتی تھی کہ انہیں کون سی ویکسین دی گئی مگر انہیں دوہری خوراک مل چکی تھی۔ وہ وارڈ میں ہمیشہ پی پی ای کٹ پہنتے تھے۔ انہوں نے روتے ہوئے غمناک آنکھوں سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بوسٹر ویکسین کی عدم دستیابی پر ویکسی نیشن کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ خاندان کے لیے دہرا سانحہ ہے اور ہم کسی اور چیز پر غور کرنے کیلئے بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔واضع رہے مرحوم کے والد75سالہ کمال جو ایک ڈاکٹر بھی ہیں24ستمبر کو کووڈ سے لندن کے ایک اور ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے جسکا انہیں نہیں بتایا جاسکا۔

ڈاکٹر حلیم کی موت گریٹ ویسٹرن ہسپتال، سوئیڈن میں کووڈ آئی سی یو وارڈز پر کام شروع کرنے کے صرف دو ماہ بعد ہوئی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وائرس میں مبتلا ہوگئے تھے۔سرجن کو میڈیکل پاور ہائوس کے طور پر سمجھا جاتا تھا اور ساتھیوں نے اپنے پورے کیریئر میں تقریباً ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج کیا، وہ گزشتہ موسم بہار میں وبائی مرض کے عروج پر چار ماہ تک اپنے خاندان سے الگ تھلگ رہے جبکہ وہ کووڈ کے مریضوں کا اگلی خطوط پر علاج کرر ہے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes