مجھ پر لگائے گئے الزامات مکمل طور پر جھوٹ،عدالت میں سامنا کرنا چاہتی ہوں،شمیمہ بیگم – Kashmir Link London

مجھ پر لگائے گئے الزامات مکمل طور پر جھوٹ،عدالت میں سامنا کرنا چاہتی ہوں،شمیمہ بیگم

لندن (کشمیر لنک نیوز) داعش کی سابق دلہن شمیمہ بیگم نےاصرار کیا ہے کہ جب اس نے نوعمری میں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کیلئے شام کا سفر کیا تھا تو اس وقت وہ برطانیہ سے نفرت نہیں کرتی تھی۔ انہوں نےاس اپیل کا اعادہ کیا کہ انہیں اپنے خلاف الزامات کا عدالت میں سامنا کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ 22 سالہ شمیمہ بیگم نے کہا کہ اس کے خواب اور امیدیں ہیں، اگر اس کی ختم کی گئی برطانوی شہریت بحال نہ کی گئی تو اس کے پاس کوئی بی پلان نہیں ہے۔

شمیمہ بیگم 15 سال کی عمر میں ایسٹ لندن میں اپنا گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی، اس وقت وہ سکول کی طالبہ تھی۔ انہوں نے دہشت گردی کی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی اور یہ بھی کہا کہ وہ پہلے بھی یہ بات کہہ چکی ہےکہ وہ الزامات کا عدالت میں سامنا کرنے برطانیہ واپس جانا چاہتی ہے۔ سکائی نیوز کو ایک انٹرویو میں شمیمہ بیگم نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کا اعادہ کیا کہ اس نے داعش کے ایک حصے کے طور پر مظالم کئے تھے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ ہیں۔

انہوں نے براڈ کاسٹر کو بتایاکہ وہ ان الزامات کا عدالت میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اسے یہ موقع فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ٹین ایجر کے طور پر اپنے برطانیہ چھوڑنے کے فیصلے کے بارے میں انہو ں نے کہا کہ یہ فیصلہ جلدی میں نہیں کیا تھا بلکہ یہ وہ چیز تھی، جس کے بارے میں اس نے کچھ دیر سوچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں برطانیہ سے نفرت نہیں کرتی ہوں، میں حقیقت میں اپنی زندگی سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود کو بہت تنگ محسوس کرتی تھی کیونکہ میں نے محسوس کیا تھا کہ میں برطانوی خاتون کے طور پر ویسی زندگی برطانیہ میں نہیں گزار سکتی جیسی کہ میں چاہتی تھی۔

شمیمہ بیگم شام کے الروج ریفیوجی کیمپ میں مقیم رہی، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے ان کی زندگی کو اور خوفناک بنا دیا تھا۔ انہوں نےکہا کہ طویل عرصے تک وہ پرتشدد نہیں تھا لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر وہاں رہنا زیادہ خوفناک ہو گیا تھا۔ شاید وہاں خواتین کسی چیز کے انتظار میں بہت تھک چکی تھیں۔ انہوں نےکہا کہ جب مناسب وقت ہوگا تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ صلح کرنا چاہیں گی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے شمیمہ بیگم نے کہا کہ انہوں نے مجھے ناکام بنا دیا ہے اور میں نےانہیں ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی یہ کہا تھا کہ کس طرح الروج ریفیوجی کیمپ میں آمد کے 10 روز بعد ڈچ نومسلم یاگو رڈیجک کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تھی اور اس کے تین بچے تھے جو سب سے سب انتقال کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں سوتی تھی تو سوچتی تھی کہ میرے بچے مر رہے ہیں، بم دھماکے اور مسلسل بھاگنا پڑ رہا ہے، میرے فرینڈز مر رہے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes