پاکستان نژاد گلوکارہ عروج آفتاب کا بڑا اعزاز، گریمی ایوارڈز کی دو کیٹگریز میں نامزد – Kashmir Link London

پاکستان نژاد گلوکارہ عروج آفتاب کا بڑا اعزاز، گریمی ایوارڈز کی دو کیٹگریز میں نامزد

لندن(مونا بیگ)یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ پاکستان کی مٹی بڑی زرخیز ہے جہاں بہت سا ٹیلنٹ چھپا ہوا پے، جن جن لوگوں کو بیرون ممالک میں موقع ملتا ہے وہ کھل کر اپنے اپنے جواہر کا مظاہرہ کرکے نام بنالیتے ہیں۔ سعودی عرب میں پیدا ہونے والی پاکستانی لڑکی عروج آفتاب بھی ان خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جنہیں امریکہ کے میوزک انڈسٹری کے بڑے اعزاز گریمی ایوارڈز 2022 کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

گریمی کے لیے ’دی ریکارڈنگ اکیڈمی‘ نے عروج کا نام دو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے۔ بیسٹ نیو آرٹسٹ کے علاوہ ان کا گانا ’محبت‘ بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ عروج ایک 37 سالہ پاکستانی ہیں جنھوں نے لاہور سے اپنی موسیقی کا آغاز کیا، امریکہ کے برکلے کالج آف میوزک سے تعلیم حاصل کی اور اب تک ان کی تین سولو البم آ چکی ہیں۔ اس کامیابی پر گلوکارہ حدیقہ کیانی نے بھی انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔

انھوں نے اپنے میوزک کیریئر کا آغاز بطور کوور آرٹسٹ کیا یعنی وہ کسی مشہور گانے کو اپنے انداز میں گا کر نیا رنگ دیتی تھیں۔ 18 سال کی عمر میں انہیں اپنے دو گانوں کی وجہ سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ جسکے بعد وہ امریکہ کے برکلے کالج سے میوزک پروڈکشن اور انجینیئرنگ پڑھنے کے دوران وہ نیو یارک آ گئیں۔ 2010 میں نیویارک میں ہونے والے صوفی فیسٹیول میں عابدہ پروین سے ملنے کا موقع ملا جنہوں نے ناصرف عروج کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اسے کلاسیکل سے جڑے رہنے کا مشورہ دیا اور اپنے ایک مخصوص البم سننے کو کہا۔

گریمی میں نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر عروج سے متعلق طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ جہاں اکثر لوگ انھیں اس پر داد دے رہے ہیں وہیں کچھ لوگ بظاہر ان کی موسیقی سے زیادہ متاثر نہیں۔ عروج اس سے پہلے بھی عالمی سطح پر سب کی نظروں میں آ چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ان کا گانا ’محبت‘ اپنے آفیشل سمر 2021 پلے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ حفیظ ہوشیارپوری کی ایک غزل پر مبنی یہ گانا عروج کے ہٹ گانوں میں سے ہے جسے ان سے پہلے مہدی حسن گا چکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes