برطانیہ میں مستحق افراد کو قانونی امداد کی فراہمی کیلئے ایدھی فائونڈیشن انٹرنیشل کا لا فرم سے معاہدہ – Kashmir Link London

برطانیہ میں مستحق افراد کو قانونی امداد کی فراہمی کیلئے ایدھی فائونڈیشن انٹرنیشل کا لا فرم سے معاہدہ

لندن (عمران راجہ) برطانیہ میں رہتے ہوئے اپنے حق کیلئے کیس لڑنے کیلئے فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مظلومیت کے شکار افراد کیلئے ایدھی انٹرنیشنل فائونڈیشن یوکے نے ایک لا فرم کیساتھ مل کر مستحقین کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ لندن کی مقامی لیگل فرم جولیا اینڈرانا سولیسٹرز آف لندن کے تعاون سےاعلان کردہ اس پروگرام کو ’’لیگل فی سپورٹ پروگرام‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وسطی لندن کے ممتاز ریسٹورنٹ میں باقاعدہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سے بیشتر غیر قانونی طور پر بھی مقیم تھے، لاک ڈائون کے دوران انہیں کھانے، پینے کے مسائل بھی تھے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہاںپر ایک لیگل ایڈ سلیکشن شروع کیا ہے اور ہمارا مقصد اس سروس کو یورپ کے ممالک تک وسیع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں اس وقت جس طرح سے لوگ ہجرت کررہے ہیں اور ان کے ساتھ جو مسائل درپیش ہیں کئی افراد اپنی منزل پر پہنچنے کی خاطر خطرناک راستوں کا انتخاب بھی کرتے ہیں اور سمندر میں ڈوب کر اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کے انتقال کے بعد برطانیہ سے ملنے والے عطیات میں کمی ضرور واقع ہوئی تھی لیکن وہ ایک پوائنٹ پر آکر رک گئے ہیں کیونکہ وبا کے اثرات ابھی ہیں، مستقبل میں کیا صورت حال ہوگی اس حساب سے اندازہ ہوگا۔ ایدھی کی برطانیہ میں معاون لا فرم جولیا اینڈ رانا کے پرنسپل سولیسٹر انعام رانا نے کہا کہ کورونا کی وبا کے آغاز کے بعد بہت سے لوگ وسائل کی کمی کے سبب مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں ایدھی فائونڈیشن سامنے آئی ہے جس نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ایک اچھا فنڈ اس مقصد کے لیے مختص کیا ہے اور امید ہے کہ اس سے کمیونٹی کے اندر مثبت ردعمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوگا جو لیگل ایڈ کے حق دار نہیں قرار پاتے، اسائلم یا امیگریشن کے معاملات میں لیگل ایڈ مل جاتی ہے لیکن ہیومن رائٹس کیسز یا فیملی معاملات والے بھی اس سروسز سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے جس کے تحت دیکھا جائے گا کہ درخواست گزار امداد کا اہل ہے۔

برطانیہ میں مقیم کراچی سے تعلق رکھنے والے کامریڈ اکرم قائم خانی نے کہا کہ ایدھی فائونڈیشن کا یہ اقدام سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایدھی، پاکستان کی سب سے بڑی چیرٹی ہے اور اس نے اپنے کام سے ثابت کیا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ مخلص ہے اور بغیر کسی فراڈ کے تمام ملنے والے پیسہ حق داروں تک پہنچاتی ہے اور اس سے نہ صرف پاکستانیوں اور کشمیریوں بلکہ دنیا کے دیگر رقوم کے ضرورت مند افراد کی بھی مدد ہوگی۔ جبکہ ایدھی فائونڈیشن برطانیہ کے اریج آقا نے کہا کہ قوی امید ہے کہ یہ لیگل سپورٹ پراجیکٹ سے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور اس بات کی توقع بھی ہے کہ عطیات دینے والے بھی تعاون کریں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes