میں لفظ بیچتا ہوں خریدار دیکھ کر – Kashmir Link London

میں لفظ بیچتا ہوں خریدار دیکھ کر

جاپان ٹائمز میں حال ہی میں براہمہ چیلنے نامی صحافی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے کرونا پھیلائوکے حوالے سے پاکستان اور چین کو دل بھر کر رگیدنے کی کوشش کی ہے۔موصوف کا کہنا ہے کہ کمیونزم اور چین دونوں ہی صدی کی بدترین وباء کو دنیا بھر میں پھیلانے کا باعث بنے ہیں ۔ چین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ووہان شہر میں اس وباء کو روکا نہ گیا تو دنیا بھر میں دوسری جنگ عظیم سے بھی بڑھ کر تباہی ہوگی۔ چین کی اس غلط حرکت نے ساری دنیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آگے چل کر معزز لکھاری نے اپنی توپ کا رخ پاکستان اور تبلیغی جماعت کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور پاکستان سے لے کر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور تمام مغربی افریقہ میں تبلیغی جماعت کے اجتماعات ہوتے رہے جس کے باعث کرونا دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتا چلاگیا۔تاہم فاضل مصنف یہ بتانے سے قاصر رہے کہ امریکا، برطانیہ،اٹلی، سپین اور اسی طرح کے دیگر ممالک میں تبلیغی جماعت کے کتنے اجتماعات ہوئے۔ اور یہ کہ اگر وہاں اس جماعت کے لوگ اکھٹے نہیں ہوسکے تو پھر جو ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان ممالک میں کرونا کا شکار ہورہے ہیں اس کا سبب کیا ہے۔ اصل میں صورت حال یہ ہے کہ دنیا کی سیاست کا پہیہ ایک لمحے کو بھی اس وباء کے باوجود ساکن نہیں ہوا۔ وہی جوڑ توڑ، وہی سازشیں۔ چین کہے امریکا ذمے دار، امریکا کہے چین ذمے دار، دونوں کی ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں لیکن اس سارے کھیل میںہمارا ہمسایہ بھارت بھی اسی طرح ٹانگ اڑانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے جیسے بڑے جاگیرداروں کی لڑائی میں ان کاکوئی ملازم آگے آگے بڑھ کر شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا مظاہرہ کرتا ہے۔بھارت ابھی تک اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ پاکستان اور چین کی مخالفت کرنے سے امریکا کی نظر میں اس کا وقار بلند ہوجائے گا اور امریکا انعام کے طور پر اسے افغانستان میں ایک سردارانہ رول سے نواز دے گا۔حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ اب امریکا نہ تو افغانستان میں کوئی خاص کردار ادا کرنے کی حیثیت میں ہے نہ ہی اسے کسی کو وہاں کی نمبرداری دینے کا اختیار ہے۔ امریکا تو اس وقت افغانستان سے باعزت واپسی کا راستہ ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔ تبلیغی جماعت پر اعتراضات کی بوچھاڑ اصل میں بھارت کے اس خوف کی غماز جس کا وہ اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے مسلسل شکار ہے۔مودی صاحب کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں مقبوضہ جموں کشمیر میں انٹ شنٹ قوانین کے نفاذ سے وہاں حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ بھارتی سرکاری اور سیاسی عہدے دار وہاں کا دورہ تک کرنے کی حالت میں نہیں۔ایک طویل جابرانہ لاک ڈائون کے باعث مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ بدترین نفسیاتی دبائو کا شکار ہے۔لگتا ہے کہ ایک انتہائی خوفناک رد عمل کسی بھی وقت آتش فشاں کی طرح ایسے پھٹے گا کہ سب کچھ بھسم ہوجائے گا۔ بھارت کی طرف سے کنٹرول لائین پر بلااشتعال گولہ باری کا جو سلسلہ جارہی ہے وہ بھی دراصل اپنی بے بسی اور ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔اور پس پردہ مقصد یہ بھی ہے کہ گولہ باری کی گھن گرج سے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو پریشرائیز کیا جاسکے۔ بھارت کے اندر بھی معاملات کچھ زیادہ پرسکون نہیں۔ انتہا پسند ہندوئوں کی پرامن مسلمانوں کے خلاف جلائو گھیرائو کی کاروائیاں سرکاری سرپرستی میں مسلسل جاری رہتی ہیں۔سکھوں کے ساتھ بھی جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مودی صاحب کی طرف سے نافذ کیے جانے والے لاک ڈائون نے لوگوں کو ایک ایسی اذیت میں مبتلا کردیا جس کا بیان بھی لفظوں میں ممکن نہیں۔ کیا دلّی کیا ممبئی، لاک ڈائون کا اعلان ہوتے ہی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ جمع ہوکر مودی سرکار کے خلاف نعرے لگانے لگے جو اپنے اپنے علاقوں سے نوکریاں کرنے ان بڑے شہروں کی طرف آئے تھے۔ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب پریشان تھے اور بے شمار ایسے جن کے پاس سفر کے لیے پیسے ہی نہیں تھے۔ آپ میں سے اکثر نے بدنصیب رنبیر سنگھ کا قصہ ضرور سن رکھا ہوگا جو مودی سرکار کی طرف سے پیشگی اطلاع کے بغیر لاک ڈائون سے پریشان ہوکر پیدل ہی دلی سے 386 کلومیٹر دور مدھیہ پردیش اپنے آبائی گھر کی طرف چل پڑا۔ اس کے پاس پیسے تھے نہ خوراک۔ ابھی وہ 200کلومیٹر آگے گیا تھا کہ راستے میں اسے شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا جسے وہ سہہ نہ سکا اورموقعے پر ہی ہلاک ہوگیا۔آپ میں سے اکثر نے مدھیہ پردیش کی اس 19سالہ لڑکی کا قصہ بھی ضرور سن رکھا ہوگا جسے تین افراد نے اپنی جنسی وحشت کا نشانہ بنایا اور اسے بعد میں بھی بلیک میل کرتے رہے۔ اس بے چاری کے متعلقین نے انصاف کے حصول کے لیے ہر دروازے پر دستک دی مگر کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی ۔ آخر 26فروری کی رات اس نے مٹی کا تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔ جس وقت اسے ہسپتال لایا گیا اس کا نوے فیصد جسم جل چکا تھا، ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی۔مگر مودی سرکار اور بی جے پی کے انتہا پسندوں کی نظر میں ایسے واقعات کوئی خاص اہمیت کے حامل نہیں، ان کے خیال میں یہ سب معمول کی باتیں ہیں۔ لگتا ہے کہ خودکشی کرنے والی یہ بے بس لڑکی شاید کسی نچلی ذات کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اسی لیے مودی سرکار کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ویسے بھی مودی سرکار کے پاس نچلی ذات کے ہندوئوں کے لیے عام طور پر وقت نہیں ہوتا۔ وقت کی اسی کمی کی شکایت سکھوں اور مسلمانوں کو بھی رہتی ہے۔یہی شکایت ایک اور اقلیتی طبقے یعنی کرسچین کمیونٹی کو بھی ہوتی ہے، یہ وہی کمیونٹی ہے جس کے بڑوں کو راضی کرنے کے لیے مودی صاحب کبھی الٹے ہوتے ہیں تو کبھی سیدھے لیکن بھارت میں اس برادری سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی ہمارے اور آپ کے تصور سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔ محترم نریندر مودی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ جاپان اور کینیڈا کے اخبارات میں بکائو صحافیوں اور برائے فروخت لکھاریوں کو پیسے دے کر پاکستان اور چین کے خلاف ڈھول پیٹ کر وہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتے ہیں۔کون کیا ہے، کتنے پانی میں ہے، اب ایسی باتیں راز نہیں ہوتیں۔تبلیغی جماعت، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا اور چین کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا خون جلانے کی بجائے، مودی سرکار کو چاہیے کہ سیکولر انڈیا کی سیکولر حیثیت کو باقی رکھنے کے لیے کوشش کرے۔اسی میں بھارت کی مضبوطی بھی ہے اور بقا بھی۔مودی صاحب کو ایک اور بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے، جاپان اور کینیڈا کے جو لکھاری آج آپ کے ہاتھ اپنے لفظ بیچ رہے ہیں، ہم نے آپ سے زیادہ پیسوں کی پیشکش کردی تو ہم سے بھی سودا کر سکتے ہیں۔کاروبار ہمیں بھی آتا ہے مگر کیا کریں کہ ہماری دینی اور اخلاقی تربیت ہمیں ایسے کاروبار کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتی۔

50% LikesVS
50% Dislikes