افغانوں کو برطانیہ آنے سے روکنے کے لیے ہوم آفس کی طرف سے لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے جانے کا انکشاف – Kashmir Link London

افغانوں کو برطانیہ آنے سے روکنے کے لیے ہوم آفس کی طرف سے لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے جانے کا انکشاف

لندن (اکرم عابد) معروف برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی ہوم آفس نے 2016 سے اب تک ایک ایسی کمپنی کو سات لاکھ دو ہزار پاؤنڈ دیے ہیں جو مائیگریشن کے رویوں میں تبدیلی پر کام کرتی ہے۔ برطانوی حکومت نے ایک ایسی کمپنی کو سات لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم دی ہے جس نے طالبان کے کنٹرول میں آنے سے قبل افغانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ملک نہ چھوڑیں۔

دی انڈپینڈنٹ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ہوم آفس نے 2016 سے اب تک مائیگریشن کے رویوں میں تبدیلی کی فرم کو کم از کم سات لاکھ دو ہزار پاؤنڈ دیے اور ہوسکتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران دفتر خارجہ نے اسے اس سے بھی زیادہ رقم دی ہو۔ فنڈنگ کے باوجود پارلیمنٹ کے ایوانوں میں سیفر نامی آرگنائزیشن کا نام کبھی نہیں لیا گیا اور ہوم آفس نے اس کو دیے گئے کام کی تفصیل دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس حوالے سے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کوئی معذرت نہیں کرتی کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے ان خطرات کو اجاگر کرنا چاہتی ہے جو سمگلروں کے ذریعے کیے جانے والے سفر کے دوران لاحق ہوتے ہیں۔ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ مشاورت کرنے والوں نے نقل مکانی کے متعلق محفوظ اور زیادہ باخبر فیصلے کیے اور یورپ کے سفر میں ممکنہ طور پر خطرناک متبادلوں سے گریز کیا۔

واضع رہے آن دا موو اور دا مائیگرنٹ پروجیکٹ سمیت کثیر لسانی ویب سائٹس سیفر کمپنی سے منسلک ہیں، جو تارکین وطن اور ممکنہ تارکین وطن کو باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ حکومت سیفر کو منظم امیگریشن جرائم کی روک تھام اور مواصلاتی حکمت عملی پر اثرانداز ہونے کے لیے ایک نئے معاہدے کے تحت عوامی فنڈز میں سے مزید پانچ لاکھ پاؤنڈ دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes