کنزرویٹو پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد نسلی اقلیتوں کے بچوں میں غربت بڑھی؛ بیم لیبر کا الزام – Kashmir Link London

کنزرویٹو پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد نسلی اقلیتوں کے بچوں میں غربت بڑھی؛ بیم لیبر کا الزام

لندن (عمران راجہ) برطانوی حزب اختلاف لیبر پارٹی نے تازہ ترین اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے دور اقتدار میں کورونا کے سیاہ فام افراد، ایشیائی اور نسلی اقلیتی لوگوں پر پڑنے والے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ برطانیہ میں 2019-20 کے دوران 53 فیصد سیاہ فام بچے غربت کے ماحول میں پل بڑھ رہے تھے۔ یہ شرح ایک عشرہ قبل کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ تھی۔ یہ شرح 10 فیصد کے مساوی اور سفید فام بچوں کے مقابلے میں دگنی تھی۔

لیبر پارٹی کے تجزیئے کے مطابق 2010ء میں کنزرویٹو پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد غربت میں پلنے والے سیاہ فام بچوں کی شرح دگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی نااہلی اور اسٹرکچرل نسل پرستی کے وجود کے انکار کی وجہ سے سیاہ فام بچے غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیبر پارٹی نے اسٹرکچرل نسل پرستی سے نمٹنے کیلئے نسلی مساوات کے ایک نئے ایکٹ کے نفاذ اور حکومت کی جانب سے گزشتہ سال بیرونس ڈورین لارنس کی پیش کردہ 20 سفارشات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

خواتین اور مساوات سے متعلق امور کی شیڈو وزیر اینا لیزے ڈوڈز نے کہا کہ کنزرویٹوز کو اس بات پر شرم آنی چاہئے کہ 50 فیصد سے زیادہ بچے اس کرسمس پر بھی غربت کا شکار تھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کنزرویٹو پارٹی کے وزرا نے اسٹرکچرل عدم مساوات پر قابو پانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ دوسری جانب ایک سرکاری ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ 2010 کے مقابلے میں تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والے 300,000 کم بچے غربت کا شکار ہیں اور حکومت ان کی تعداد میں مزید کمی کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر امداد فراہم کررہی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes