جدید ٹیکنالوجی پر جھوٹی عمارت تیار کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین ارب پتی خاتون فراڈ کی مرتکب نکلی – Kashmir Link London

جدید ٹیکنالوجی پر جھوٹی عمارت تیار کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین ارب پتی خاتون فراڈ کی مرتکب نکلی

لندن(کشمیر لنک نیوز)دنیا میں عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ جہاں غربت ہو وہاں جرائم جنم لیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی وساطت سے سیکنڈوں میں پھیلنے والی خبروں کی وجہ سے یہ حقیقت آشکار ہونے لگی ہے کہ جرائم کا تعلق غربت سے بالکل نہیں کیونکہ امیر لوگ بھی جرائم کی دنیا میں اتنے ہی متحرک ہیں جتنے غریب لوگ ہیں۔ اسکی تازہ مثال امریکی خاتون ایلزبیتھ ہومز ہیں جنہوں نے فراڈ کے ذریعے عوام کے ساڑھے نو ملین ڈالرز ڈکار لئے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈایلی میل نے اپنے ایک خصوصی فیچر میں انکی تازہ ترین تصاویر شیئر کی ہیں جن میں موصوفہ ہنستے مسکرات اور قہقہے لگاتی نارنل زندگی گذارتی نظر آتی ہیں۔ عدالت سے قصوروار ثابت ہونے کے بعد انکی سزا کا تعین اگلی پیشی پر ہوگا تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ انہیں کم سے کم بیس سال کی سزا ضرور ہوگی۔ ملزمہ ہومز نے خون کے تیز اور درست ٹیسٹ اور خون کے چند قطروں سے سنگین بیماریوں کی دریافت کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔

ہومز نے خون کے تیز اور درست ٹیسٹ اور خون کے چند قطروں سے سنگین بیماریوں کی دریافت کے بارے میں اعلانات کے حوالے سے جھوٹ بولا۔ہومز کو کیلیفورنیا کی جیوری نے سازش اور الیکٹرانک فراڈ کے 11 میں سے 4 درجوں پر قصور وار پایا گیا۔ ہر ایک کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال ہے۔ اس نے بیماری کی تشخیص میں انقلاب لانے کے لیے 9 بلین ڈالر کی کمپنی بنائی۔خون کے صرف چند قطروں کے ساتھ تھیرانوس کمپنی نے دعوی کیا کہ اس کا ایڈیسن ٹیسٹ کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا سراغ لگا سکتا ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور مشہور میڈیا موگول روپرٹ مرڈوک جیسے وی آئی پیز نے اس کمپنی میں سرمایہ کاری کی لیکن 2015 تک حقائق سامنے آنے لگے اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس پر دھوکہ دہی کا الزام لگ گیا۔ تب پتہ چلا کہ اس نے جس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اس نے کبھی کام نہیں کیا اور 2018 تک اس کی قائم کردہ کمپنی منہدم ہو گئی۔ اب حال ہی میں اسے کیلیفورنیا میں مہینوں طویل مقدمے کی سماعت کے بعد سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes