کورونا سے بچائو، اہم تدابیر – Kashmir Link London

کورونا سے بچائو، اہم تدابیر

کرونا وائرس کی بیماری گلے سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے یہ متاثرہ افراد کی کھانسی اور چھینک کی بوندوں کے ذریعے پھیلتی ہے اس کا ابھی تک کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہوا اس سے بچنے کا سب سے موثر طریقہ سماجی فاصلہ  کو برقرار رکھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہے۔لوک ڈان کی وجہ سے ہمیں اقتصادی اور معاشرتی مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے ۔جس کی وجہ سے لوگوں میں مختلف علامات جیسے کے پٹھوں کا کھچاؤ گھبراہٹ پریشانی ذہنی تناؤ ہو رہا ہے۔اس لیے آج میں سانس میں استعمال ہونے والے پٹھوں کی ورزش کا سادہ طریقہ عوام الناس کو بتاوں  گی۔  ریسرچ کے مطابق ثابت کیا ہے کہ اس  کے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سانس کی ورزش کے دو فائدے ہیں۔ اس سے سانس لینے  میں مدد کرنے والے پٹھےمضبوط ہوتے ہیں۔ سانس کی نالیاں کھلتی ہیں۔  گھبراہٹ، پریشانی، اور منفی سوچوں کی علامات پر بھی قابو پایا جاسکتاہے۔ زیادہ تر لوگ سانس لیتے ہوئے اپنے پھیپڑوں کا پورا استعمال نہیں کرتے۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ہماری عادت بن جاتا ہے۔ پھیپھڑوں کا زیادہ تر حصہ ہماری پشت کی طرف ہوتا ہے نہ کہ سامنے کی طرف ۔  اگر آپ زیادہ تر اپنی پشت پر  لیٹے رہنے ہیں جیسا کہ آج کل کمپیوٹر، ٹی وی، موبائل چلاتے ہوئے یا کتاب پڑھتے ہوئے زیادہ تر لوگ گھروں میں لیٹے رہتے ہیں ہیں تو دباؤ کی وجہ سے سانس کی چھوٹی نالیاں بند ہو جاتی  ہے ۔ جو صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جن کو پھیپھڑوں کے امراض ہیں۔ ہمارے جسم میں دو طرح کے پٹھے سانس لینے میں اور سانس خارج کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے سانس اندر لینے والے پٹھوں کو مضبوط کرنا ہے۔ جو سانس کی ورزش سے مضبوط ہوتے ہیں۔ سانس کی ورزش کو کھانے کے فورا بعد مت کیجئے۔ کم سے کم کھانے کے دو گھنٹے بعد کیجیے  ۔ سانس کی پہلی ورزش کو بوکس بریدنگBox Breathing کہتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق بہت سے ممالک کی آرمی بھی یہی طریقہ استعمال کرتی ہے اپنے آپ کو دوبارہ فوکس پر لانے کے لئے اور ریلیکس کرنے کے لئے یے جب وہ بہت زیادہ پریشانی والے حالات میں کام کر رہی ہو۔ اس کو آپ کہیں بھی کر سکتے ہیں کھڑے ہوکر بیٹھ کر کر لیٹ کر۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ موبائل فون بند کردیں۔ لائٹ بند کر سکتے ہیں آنکھیں بند کر سکتے ہیں وہ آپ کی مرضی ہے۔ اب آہستہ آہستہ ناک کے ذریعے سانس اندر کھینچیں 4 تک کی گنتی کرتے ہوئے۔اور وہاں پر سانس کو روک لیجے چار تک کی گنتی کیجیے۔ سانس کو روکنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے جسم کو آکسیجن سے محروم کر رہے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ چار سیکنڈ کے لئے ہوا کو پھیپھڑوں کے اندر ہی روک رہے ہیں اور سانس کی چھوٹی نالیوں کو کھول رہے ہیں۔اس کے بعد آپ چار  تک کی گنتی کرتے ہوئے منہ کے ذریعے ہوا کو آہستہ آہستہ باہر نکال دیں۔ اب آپ پھر سانس کو یہاں پر چار کی گنتی تک روک لین۔ آپ اس کو دن میں کم سے کم ایک سے سے چار منٹ  تک کریں۔ سانس کی ورزش کے دوسرے طریقے  کو  ڈایا پریگمیٹک بریدنگ Diaphragmatic Breathing بھی کہتے ہیں۔ ڈایا فریم  ہمارے سینے اور پیٹ کے درمیان میں ایک جھلی ہے. یہ ورزش اس کو مضبوط کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ناصرف اپنے سینے اور پھیپھڑوں کا بلکہ اس سے بھی نیچے جائیں اور پیٹ  کے  پٹھوں کو بھی سانس لینے میں استعمال کریں۔اور اس  جھلی کو نیچے دھکیلیں ۔تاکہ پھیپھڑوں کو کھلنے کے لئے اور زیادہ جگہ ملے۔  اس سے پھیپھڑوں کی گنجائش اور زیادہ بڑھتی ہے۔ اس ورزش کا استعمال  پروفیشنل گلوکار، کھلاڑی،مقرر، استاتذہ   بھی کرتے ہیں۔ یہ آواز کو متوازن کرنے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس کو کرنے کے لئے ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھے گے اور دوسرا ہاتھ پسلیوں سے ذرا نیچے پیٹ پر رکھیں۔اب آہستہ آہستہ ہوا کو  کی گنتی کرتے ہوئے اندر کھنچے  جیسے وہ آپ کے پیٹ میں جارہی ہے اور پیٹ باہر کی طرف پھول رہا ہے ہے یہ کرتے ہوئے آپ کا سینہ اور کندھے بالکل نہیں ہلنے چاہیے۔  اس سے آکسیجن کی سپلائی دماغ اور پھیپھڑوں میں زیادہ ھوتی ہے  جسم کو ڈیٹوکس Detox اور صافcleanse  کرتی ہے. یعنی جسم کی صفائی کرتی ہے. توجہ کو بہتر کرتی ہے  ۔ میرا مشورہ ہے  ورزش  کو روزانہ کریں ۔ ایک اور آسان سی ورزش چہرے کے بل بستر پر لیٹ جائیں ۔  آپ کا چہرہ زمین کی طرف اور پشت چھت کی طرف ہو۔ اس طرح لیٹ کر پانچ سے دس منٹ تک آہستہ آہستہ لمبے اور گہرے سانس لیں   اس سے بھی پھیپھڑوں  کی چھوٹی نالیوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ سانس کی ورزش کو روزانہ کرنے سے  ہماری توجہ بہتر ہوتی  ہے۔ ذہن صاف ہوتا ہے۔  منفی سوچوں سے توجہ ہٹتی ہے۔ پٹھوں کے کھچاؤ میں کمی ہوتی ہے۔ جسم ریلیکس ہوتا ہے۔ ڈسپلن بھی بہتر ہوتا ہے۔ اور قوت مدافعت بھی بہتر ہوتی ہے

50% LikesVS
50% Dislikes