پاکستان میں امداد باہمی کی سب سے بڑی تنظیم اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد – Kashmir Link London

پاکستان میں امداد باہمی کی سب سے بڑی تنظیم اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد

لندن (مبین چوہدری) پاکستان کی عوامی فلاح و بہبود کی سب سے بڑی تنظیم اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو نوبل پیس پرائز 2022 کیلئے نامزد کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر امجد ثاقب کو انسانی خدمات کے صلہ میں نوبل انعام کیلئے نامزد کیا گیا، یورپی ملک مالٹا کے وزیر خارجہ نے ڈاکٹر امجد ثاقب کو نامزد کیا۔ اخوت فائونڈیشن 50لاکھ سے زائد افراد کو غربت سے نکال چکی ہے،ڈاکٹر امجد ثاقب نے 2001 میں 100 ڈالر سے کام شروع کیا،2001 سے اب تک اخوت 50 لاکھ خاندانوں کو 1 ارب سے زائد کی مدد فراہم کرچکی ہے،ڈاکٹر امجد ثاقب اس سے قبل کئی بین الاقوامی ایوارڈز جیت چکے ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب ایک محب وطن پاکستانی سماجی کاروباری، انسانی ہمدرد، مصنف اور سابق سرکاری ملازم ہیں۔ انہوں نے اخوت فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جو صفر شرح سود پر مائکرو فنانس کریڈٹ پروگرام چلاتی ہے۔ یہ تنظیم غریب خاندانوں کو اپنا روزگار شروع کرنے کے لیے مالی اعانت فراہم کرتی ہے۔ امجد ثاقب سماجی بھلائی، غربت کے خاتمے، مائیکرو فنانس اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے کام کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اخوت کا سفر، کامیاب لوگ اور مولو موصلی سمیت متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور ساتھ ہی متعدد پاکستان کے اخبارات میں کالم لکھتے رہے ہیں۔ وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات کے حامل ہیں جن میں ستارۂ امتیاز پاکستان کا تیسرا اعلیٰ سول ایوارڈ بھی شامل ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو گزشتہ سال ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک، رامون مگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی ان کی تعریف کی۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے ماڈل پر فلاحی ریاست بنانے کے سفر میں ہمیں ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کامیابی پر فخر ہے۔ یادرہے رامون مگسیسے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئیرو مگسیسے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سہرانا جو دوسروں کی فلاح اور بہود کے لیے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں۔اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes