بورس جانسن کے دورہ بھارت پر عمران حسین ایم پی کا مدلل خط، کشمیری رہنمائوں کا اظہار تشکر – Kashmir Link London

بورس جانسن کے دورہ بھارت پر عمران حسین ایم پی کا مدلل خط، کشمیری رہنمائوں کا اظہار تشکر

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) ممبر برطانوی پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین ایم پی کا برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کروانے اور کشمیریوں کوان کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت دلوانے کا مطالبہ ایک ایسا دلیرانہ فیصلہ جس پر کشمیری انکے مشکور ہیں کہ انہوں نے انتہائی مناسب وقت پر یہ کام کیا ہے۔ واضع رہے عمران حسین ایم پی نے ایک ایسے وقت جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھارتی دورے پر ہیں انہیں ایک کھلا خط تحریر کرکے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز بلند کی۔

جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں اُجاگر کرنے کے سلسلہ میں اور مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کرنے کے سلسلہ میں بے شمار سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اور برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کے لئے موثر آواز بلند کرنے والے ممبر برطانوی پارلیمنٹ و شیڈو منسٹر برائے ایمپلائمنٹ رائٹس و پروٹیکشن بیرسٹر عمران حسین ایم پی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین راجہ نجابت حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم بورسن جانسن کو تصفیہ،طلب خطہ کشمیر بارے تمام تر حقائق سے آگاہی دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ اس وقت ایسے ملک میں موجود ہیں جو اس مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں۔

بیرسٹر عمران حسین نے اپنے خط میں برطانوی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ جب بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے والے معائدوں پر دستخط کریں تو اُنہیں ان معائدوں کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کروانے کے ساتھ مشروط کرنا چاہیے۔ بیرسٹر عمران حسین نے اپنے خط میں یہ مطالبہ کیا کہ برطانیہ اور بھارت کے مابین جو فری تجارتی معاہدہ ہوا ہے اُس میں مسئلہ کشمیر کے حل کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیاجس پر برٹش کشمیریوں اور پوری دنیا میں بسنے والے کشمیریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی فارن پالیسی کا ہمیشہ سے یہ حصہ رہا ہے کہ پوری دنیا کے ممالک انسانی حقوق کے حوالے سے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے مگر اس مرتبہ برطانیہ کی بھارت کے ساتھ تجارتی پالیسی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے کسی بھی قسم کی کوئی بات نہیں لکھی گئی۔

خط میں بیرسٹر عمران حسین نے لکھا کہ برطانوی حکومت کو بھارت کے ساتھ معائدے کرتے ہوئے سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانی چا ہئیں کیوں کہ برطانوی حکومت پوری دنیا میں انسانی حقوق کی حوالے سے ایک معتبر بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے۔ بیرسٹر عمران خان نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ معاملہ قرار دے کر مسئلہ کشمیر کی توہین کی ہے اورمقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے مردوں، عورتوں، بچوں کے حقوق کو کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر برطانیہ کا ہی پیدا کردہ مسئلہ ہے جو کہ برطانیہ کی کالونیل پاور کے دوران برصغیر کی تقسیم کے وقت پیدا ہوا تھا اور تاحال حل نہیں ہو سکا۔

جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین نے اپنی جانب سے اور اپنی پوری ٹیم جس میں سردار عبدالرحمان، ہیری بوٹا، صبیحہ خانم، کونسلر یاسمین ڈار، سابق میئر غضنفر خالق و دیگر شامل ہیں کی جانب سے بیرسٹر عمران حسین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا ہے کہ بیرسٹر عمران حسین نے ہمارے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا ہے اور بیرسٹر عمران حسین کا یہ خط جو کہ برطانوی وزیر اعظ کو اس وقت لکھا گیا ہے جب وہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس خط کے زریعے نہ صرف کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں بلند ہوئی ہے بلکہ برطانوی حکومت اس خط کو مد نظر رکھے گی اور بھارت کے ساتھ کوئی بھی معائدہ کرنے سے پہلے بھارت پر شدید دباؤ ڈالے گی اور بھارت کو برطانیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تجارتی یا دیگر معائدہ کرنے سے پہلے مسئلہ کشمیر حل کرنا پڑے گا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے مطابق دینا پڑے گا۔ راجہ نجابت حسین نے کہا ہے کہ وہ بیرسٹر عمران حسین کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes