حکمران چاہے کوئی بھی ہو؛ مملکت خداداد پاکستان کو دورہ سعودی عرب سے کیا کیا اور کیوں ملتا ہے؟ – Kashmir Link London

حکمران چاہے کوئی بھی ہو؛ مملکت خداداد پاکستان کو دورہ سعودی عرب سے کیا کیا اور کیوں ملتا ہے؟

جدہ (کشمیر لنک نیوز) پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں کُل 32 غیر ملکی دورے کیے جن میں سے وہ آٹھ بار سعودی عرب گئے۔ کبھی وہ سعودی بادشاہت سے رشتہ بہتر کرنے آتے اور کبھی مالی مدد مانگنے۔ اگست 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد عمران خان اگلے ہی ماہ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔

تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے، نہ ہی دونوں جانب سے کوئی بیان جاری ہوا۔سعودی عرب نے آخری معاہدے کے تحت دسمبر 2021 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروائے تھے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب نے پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر کی مالی امداد دی تھی۔ اس مدد کا اعلان اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران کیا گیا تھا۔ یہ مدد سستے قرضوں اور ادھار تیل کی صورت میں تھی۔

خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیامِ پاکستان سے ہی مضبوط تعلقات ہیں۔ سنہ 1970 کے بعد سے یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور عموماً پاکستانی رہنما اپنے پہلے دورے پر سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے کی سب سے اہم وجہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی مالی امداد ہے۔پاکستان کے مقامی میڈیا پر چلنے والی ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب سے آٹھ ارب ڈالر کا امدادی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔پاکستانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو تیل کی مد میں دی جانے والی مالی امداد کو دگنا کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کے جاری قرض کی واپسی کو مؤخر بھی کرے گا۔

واضع رہے گذشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب نے پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر کی مالی امداد دی تھی۔ اس مدد کا اعلان اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران کیا گیا تھا۔ یہ مدد سستے قرضوں اور ادھار تیل کی صورت میں تھی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ضرورت پڑنے پر سعودی عرب پاکستان سے فوجی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔ تـجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات میں سعودی قرضے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ سعودی پیسے اور امریکی پالیسی کی وجہ سے اسلام آباد ہمیشہ ریاض کے قریب رہا ہے۔

دور حکمرانی کے آخری دنوں میں عمران خان کی حکومت کے دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں واضح تلخی دیکھنے میں آئی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت امریکہ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔ من کی جنگ بھی سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں تلخی کی ایک وجہ ہے۔ سعودی عرب کو لگتا ہے کہ امریکہ نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب سٹریٹیجک طور پر مزید مضبوط ہونا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا امریکہ کو ناراض کرنے کے عوض نہیں کرنا چاہتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes