بین الاقوامی شہرت یافتہ کانز فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلم کی زبردست پذیرائی، ایوارڈ بھی جیت لیا – Kashmir Link London

بین الاقوامی شہرت یافتہ کانز فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلم کی زبردست پذیرائی، ایوارڈ بھی جیت لیا

پیرس (مونا بیگ) فرانس میں ہونے والے معروف انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پاکستانی کی پہلی فلم ’جوائے لینڈ‘ نے ناظرین کا دل جیت لیا، جس پر فلم کے ہدایت کار اور اداکاروں نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ امید بھی ظاہر کی پاکستانی ناظرین بھی اسے دیکھنا پسند کرینگے۔ اس وقت تک کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ یہی فلم عالمی ایوارڈ کی بھی مستحق قرار پائے گی، یہی وجہ ہے کہ جب اسکی کامیابی کا اعلان کیا گیا کہ تو فلم کا پورا عملہ فرط جذبات سے مسرور ہوگیا۔

یوں پہلی بار پاکستانی فلم نے دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے ’کانز‘ میں ایوارڈ اپنے نام کرکے تاریخ رقم کردی۔ جوائے لینڈ نے ان سرٹن ریگارڈ کیٹیگری میں جیوری انعام اپنے نام کیا جو اس فلمی میلے کادوسرا بڑا ایوارڈ تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ڈائریکٹر، رائٹر و اداکارصائم صادق کی فلم جوائے لینڈ پہلی پاکستانی فلم ہے جس کی اسکریننگ کانز فیسٹیول میں کی گئی، فلم میں ثروت گیلانی، ثانیہ سعید، علی جونیجو، ثناء جعفری، علینہ خان سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا۔

یہ فلم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنے پدرشاہی خاندان کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے اور اس کے والد کی توقع ہے کہ اس کی بیوی تین بیٹیوں کے بعد ایک بیٹے کو جنم دے گی۔ مگر وہ اس کی بجائے ایک تھیٹر ٹروپ کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی ڈائریکٹر خواجہ سرا خاتون کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ فلمی میلے میں موجود بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پاکستان خواجہ سراؤں کو امتیازی سلوک کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرنے والے اولین ملکوں میں شامل ہے۔ پاکستان نے 2009 میں خواجہ سراؤں کو تیسرے جنس کے طور تسلیم کر لیا تھا اور 2018 میں پہلا پاسپورٹ جاری کیا گیا جس میں جنس کے خانے میں خواجہ سرا درج تھا۔

فلم جوائے لینڈ کی کہانی ایک خواجہ سرا کی زندگی پر بنائی گئی ہے جس کو سرمد کھوسٹ اوراپوروا چرن نے پروڈیوس کیا ہے، فلم کا میوزک عبداللہ صدیقی کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ہدایت کاری صائم صادق کی تھی۔ واضع رہے کہ اس سے قبل بھی 2019 میں صائم صادق کی شارٹ فلم ڈارلنگ وینس اورٹورنٹو فلم فیسٹیول میں نمائش کی جاچکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes