برطانیہ میں کشمیری شناخت کے تسلیم کیے جانے کی اہمیت اور افادیت – Kashmir Link London

برطانیہ میں کشمیری شناخت کے تسلیم کیے جانے کی اہمیت اور افادیت

برطانیہ کے محکمہ برائے قومی شماریات (او این ایس) نے مردم شماری 2021 کے ڈیٹا سیٹس میں ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی جداگانہ شناخت بطور کشمیری نسلی گروپ اور مردم شماری ڈیٹا میں شمولیت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ برطانیہ میں کشمیری شناخت کا تسلیم کیا جانااور مردم شماری میں اندراج کشمیریوں کی بہت بڑی کامیابی ہے جو ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ اس اہم کامیابی پر میں پوری کشمیری کمیونٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے شکریہ بھی ادا کرتا ہوں۔ برطانیہ میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری ہوتی ہے اور اس دفعہ یہ 21مارچ2021 کو ہوئی۔ برطانیہ میں پہلی بار کشمیری شناخت کے اندراج سے جہاں انیسویں صدی سے لے کر آج تک ریاست جموں کشمیر کے مختلف خطوں سے آ کر یہاں آباد ہونے والے دس لاکھ سے زیادہ برطانوی شہریوں، آبادکاروں اور ان کی موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کو نئی شناخت ملی ہے وہاں انھیں اپنے کلچراورمثبت روایات کا تحفط بھی ملے گا اورنسلی برابری کے قانون کے تحت کشمیری کمیونٹی کو سماجی انصاف اور مساویانہ حقوق حاصل ہوں گے۔

وہ اب اپنی اوراپنی آنے والی نسلوں کے لیے جموں کشمیر میں اپنی وراثتی پراپرٹی اور کاروبار پر اپنے حق ملکیت کا تحفظ ،اپنے خاندانی تعلقات اور رسم ورواج کے تحت خوشی اور غمی کے موقع پر فیملی ری یونین کے لیے ویزوں کے حصول،اور کشمیری کمیونٹی کی مخصوص مذہبی، ثقافتی اور ھیلتھ و سوشل کئیر کے ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے بعد ورک ویزوں کے اجرأ کے لیے بننے والی نئی پالیسیوں میں کوٹے میں برابری کا حصے لینے کے لیے مردم شماری کے ڈیٹا کو بطور ثبوت استعمال کر سکیں گے ۔

مردم شماری میں برطانوی کشمیر یوں کی جداگانہ شناخت سے انہیں اپنے قومی اور ریاستی تشخص کی بحالی کے لیے پر امن سیاسی، سماجی اور سفارتی جدوجہد میں شرکت اور بحثیت کشمیری عوامی سفارت کار کے برطانیہ اور یورپ میں راےٗ عامہ ہموار کرنے،اوربین الاقوامی سطع پر اپنی قوم کا مقدمہ خود لڑنے اور مستقبل میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جموں کشمیر کے مستقبل کے فیصلہ کے لیے ہونے والی رائے شماری میں برطانیہ میں رہتے ہوے رائے دہی (ووٹ) کا ان کا پیدائیشی حق بھی محفوظ رہے گا۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ میں پیدا ہونے اور مستقل رہاؑش پزیر تمام ریاستی باشندے اپنے بچوں کے پیدائیشی (برتھ ) سرٹیفیکیٹ ، ڈرا ئیونگ لائیسنس اور پاسپورٹ بنواتے وقت اپنی یا اپنے والدین کی جائے پیدائیش جموں کشمیر یا پھر مقام و ضلع پیدائش مثلاٌ میرپور، پونچھ، جموں، سرینگر، بارہ مولا، لداخ، بلتستان یا گلگت لکھیں۔

مردم شماری کا ڈیٹا ایک ایسی مستند دستاویز ہوتی ہے جس کی بنیاد پر برطانوی حکومت اور مقامی کونسلیں مختلف علاقوں کے لیے آبادی کے تناسب کی بنیاد پر بجٹ مختص کرتی ہیں۔ اور اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کس علاقے اور کس کمیونٹی کے لیے کونسی سہولتیں ضروری ہیں۔ خصوصاً جب کسی کمیونیٹی سروس کے لیے پالیسی سازی کی جاتی ہے یا پھر اس کے لیے بجٹ مختص یا اس میں کٹوتی کی جاتی ہے تو پھرمردم شماری کے ڈیٹا اور اس سروس کو استعمال کرنے والوں یا ضرورت مندوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے ۔

کہ وہ سروس یا سہولت فراہم کی جاے یا کہ نہیں۔ اور اگر مردم شماری کے ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئے کہ اس فیصلے کے کشمیری یا کسی بھی اور نسلی اقلیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے تو پھر حکومت اور مقامی کونسلیں قانون مساوات ۲۰۱۰ کے تحت اس بات کی پابند ہیں کہ وہ کشمیری کمیوننٹی کے افراد کو ان منفعی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔ یا اگر کسی شہر اورعلاقے میں کشمیری کمیونٹی کے افراد کے تعداد زیادہ ہے تو ان کی ضرورت کے مطابق سروسز فراہم کی جاہیں۔ کشمیری شناخت کے اندراج نہ ہونے کے باعث برطانیہ میں کشمیری کمیونیٹی کی مساویانہ ترقی میں کئی رکاوٹیں حائل رہی ہیں، اور ان علاقوں میں جہاں وہ زیادہ تعداد میں آباد ہیں انہیں صحت، تعلیم ،ملازمیتوں اور کاروبارکی ترقی لیے کم حکومتی امداد ملتی رہی۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں دس لاکھ سے زیادہ ریاست جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں لیکن حکومتی ادارے یہ نہیں جانتے کیونکہ گزشتہ مردم شماری 2011 کے مطابق ہماری تعداد صرف پچیس ہزار تین سو پینتیس تھی۔ کیونکہ ہم میں سے اکثر مردم شماری اور دیگر ایکویلیٹی ڈیٹا کے فارم بھرتے وقت اپنی درست کمیونٹی شناخت کشمیری نہیں لکھتے تھے اور سوال گندم جواب چنا، کے مصداق اپنی نسلی اور قومیتی شناخت پاکستانی یا پھر کچھ اور لکھ دیتے رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ ہماری کمیونٹی کے افراد کی مشکلات اور ضرورتوں کا ڈیٹا میں کوئی وجود نہیں تھا اور حکومتی ادارے ہماری مشکلات کا حل ہماری ضرورت کی اصل نوعیت کے مطابق نہیں نکال پاتے اور کشمیری کمیونٹی کے افراد سالوں تک خاموشی سے تکالیف جھیلتے ر ہتے ہیں اور معاشرتی ناہمواری اور عدم مساوات کا نسل در نسل شکار رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے کشمیری کمیونیٹی میں زیادہ عرصہ تک رہنے والی بیماریوں مثلا زیابیطس، دل کے امراض اور معضوری کہیں زیادہ اور کینسرکی وجہ سے جلد اموات کی شرع کہیں زیادہ ہے۔ کووڈ۔19 وباء سے متاثر اور مرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ تھی مگر یہ میں اور آپ تو جانتے ہیں لیکن این ۔ ایچ ۔ ایس اور حکومتی ادارے نہیں جانتے، کیونکہ ڈیٹا میں ھماری شناخت کشمیری کمیونیٹی کے ممبر کی حیثیت سے نہیں تھی، نہ ہم لکھتے تھے ۔ اسی طرح معاشی بحران کا ہماری کشمیری کمیونیٹی کے کاروباری اداروں پر اثر اور ملازمتوں کی کمی کا تناسب دوسری کمیونیٹیز کے مقابلے میں ہماری معلومات کے مطابق اور بادی النظر میں کہیں زیادہ رہا ہے ۔ لیکن ہمارے پاس نسلی اور قومی گروپ شناخت کے ڈیٹا کی بنیاد پرتجزیہ اور دستاویزی ثبوت ںہیں تھے یہی وجہ ہے کہ ہماری کہیں شنوائی نہیں ہوئی اور ہمارے منتخب نمائندے ہمارے مسائل کے حل کے لیے آبادی میں ہماری تعداد کے درست تناسب کے مطابق ہماری کشمیری کمیونٹی کے لیے ریسورسز(وسائل) مختص نہیں کروا پائے۔

کشمیری شناخت کے اندراج کے بعد اب کشمیری کمیونیٹی بھی دیگر قومیتوں کے برابر مساویانہ بنیادوں پر ترقی کرسکے گی اور ہماری قومی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ ہوگا۔ مردم شماری میں کشمیری شناخت کی بنیاد پر حکومت اور مقامی کونسلیں ہماری ضرورتوں کا حقیقی اعداد وشمار کی بنیاد پر تجزیہ اورتعین کر کے ہماری کمیونیٹی کے ہر فرد کی ترقی کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گی اور اگر نہیں کرتیں تو ہم اور ہمارے منتخب نمائیندے قانون مساوات کے تحت حکومتی اداروں کو چیلنج کر سکیں گے۔ ہمیں برطانیہ میں قومی اور مقامی سطع پر فیصلہ سازی کرنے والے اداروں اور پارٹنرشپس میں برابری کی بنیاد پر نمایندگی ملے گی۔ کشمیر کمیونیٹی بزنسز، اداروں اور سروسز کے لیے حکومتی اداروں سے برابری کی بنیاد پر امداد ملے گی۔ کشمیری کمیونیٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی وجوہات جاننے کا موقع ملے گا اور غیر ہنرمند افراد کے لیے اپرنٹس شپس اورکم تعلیم یافتہ افراد کے لیے ملازمت اور کاروبار کے خصوصی پرگرامات کے ذ ریعے عدم مساوات کا خاتمہ ہو سکے گا ۔ این ایچ ایس اور پبلک ھیلتھ کے ادارے کشمیری کمیونیٹی میں عارضہ قلب، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کی بنیادی وجوہات کا بہتر تجزیہ اور پھرعلاج معالجے کی ضروری سہولیات فرائم کر سکیں گے۔

تفصیلات کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو دیکھیں۔

https://www.ons.gov.uk/census/censustransformationprogramme/ census2021outputs/2021dataproducts/alternativeandsmallpopulationdata

ہم آپ کی مدد، حمایت اور مردم شماری 2021 میں فعال شرکت کے لیے مشکور ہیں اور اپنے قومی، نسلی اور ثقافتی شناخت فخر سے کشمیری لکھنے کے لیے بہت شکریہ۔ برطانیہ میں بسنے والے کشمیری شہریوں کے لیے مساویانہ حقوق کے حصول، ترقی اور خوشحالی کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے اور برٹش کشمیری شناختی مہم نے ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا ہے۔ الحمدللہ۔

50% LikesVS
50% Dislikes