مسلم ویمن نیٹ ورک یو کے کی سی ای او شائستہ گوہر ہائوس آف لارڈز میں نان پولیٹیکل پیئر مقرر – Kashmir Link London

مسلم ویمن نیٹ ورک یو کے کی سی ای او شائستہ گوہر ہائوس آف لارڈز میں نان پولیٹیکل پیئر مقرر

لندن (کشمیر لنک نیوز) وزیراعظم اور ملکہ نے سرکردہ برٹش پاکستانی ویمن رائٹس کمپینر شائستہ گوہر کو ہائوس آف لارڈز میں نان پولیٹیکل پیئر مقرر کر دیا۔ شائستہ گوہر نے ہاؤس آف لارڈز میں بیرونس کے طور پر تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بڑا اعزاز قرار دیا۔ مسلم ویمن نیٹ ورک یو کے کی سی ای او شائستہ گوہر نے مسلم خواتین کے حقوق کیلئے بلا خوف و خطر کمپیننگ کی اور ایکسٹریم ازم و ریڈیکلائزیشن کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے نام روشن کیا۔ شائشتہ گوہر کے والدین کا اصل تعلق دولتالہ تحصیل گوجر خان ڈسٹرکٹ راولپنڈی سے ہے۔ وہ 1960 کے اوائل میں انگلینڈ منتقل ہوئے تھے، شائستہ گوہر نے جیو اور جنگ کو بتایا کہ وہ اپنی این جی او نسا گلوبل فائونڈیشن کے پلیٹ فارم کو پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں خواتین اور لڑکیوں کی سپورٹ کیلئے استعمال کریں گی جو گزشتہ سال قائم کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان میں لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں اور پاکستان اور کسی بھی جگہ اس ایریا میں کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں۔ جنوبی ایشیا کی خواتین میں بہت زیادہ صلاحیت ہے۔ اپنی والدہ سے بہت زیادہ انسپائر ہوں اور میں ان کی مدد کے بغیر یہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی، انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی اور ہماری ایجوکیشن اور لرننگ کیلئے خود کو وقف کر دیا تھا، انہوں نے مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو اعتماد اور رہنمائی فراہم کی اور یقینی بنایا کہ ہم اپنی زندگی میں صحیح مقاصد کیلئے کھڑے ہوں۔

شائستہ گوہر کو ہائوس آف لارڈز اپائنٹمنٹس کمیشن نے منتخب کیا اور وزیراعظم اور ملکہ نے ان کے انتخاب کی اپروول دی۔ ان کا ممکنہ ٹائٹل بیرونس آف ہال گرین ہوگا جو برمنگھم کے ایریا سے ان کے قریبی تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ ہال گرین وہ علاقہ ہے، جہاں وہ گزشتہ 20 سال سے رہ رہی ہیں اور جہاں ان کی چیرٹی مسلم ویمن نیٹ ورک یوکے بیسڈ ہے۔ بیرونس شائستہ گوہر نے کہا کہ ایک باوقار انسٹی ٹیوشن کو جوائن کرنے کیلئے مجھے مدعو کرنا ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھ جیسی کسی کو ایسا موقع دیا جائے گا، میں اس رول کو اپنی ایکٹوازم کی توسیع سمجھتی ہوں اور میں اپنی آواز کو خواتین کے حقوق اور سوسائٹی کے انتہائی کمزور اور نادار افراد کے تجربات، چیرٹی سیکٹر، ویمن ہیلتھ، دی این ایچ ایس اور یقیناً ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے کیلئے استعمال کروں گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes