بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کے حل کیلئے گرینڈ اوورسیز کلب قائم کردیا گیا ہے؛ چوہدری سرور – Kashmir Link London

بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کے حل کیلئے گرینڈ اوورسیز کلب قائم کردیا گیا ہے؛ چوہدری سرور

گلاسگو (کشمیر لنک نیوز) بیرون ملک مقیم تقریباً نوے لاکھ پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ نہ صرف ہر سال 30 بلین ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں بلکہ وہاں لاکھوں خاندانوں کی کفالت بھی کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان آنے پر ان کے ساتھ افسوسناک رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ائیرپورٹ پر سے ہی تنگ کرنا شروع کر دیا جاتا ہے، راستے میں سفر کے دوران لوٹ لیا جاتا ہے، ان کی زمینوں اور گھروں پر قبضے کر لئے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق گورنر پنجاب محمد سرور نے اوورسیز گرینڈ کلب کی افتتاحی تقریب میں کیا۔

انکا کہنا تھا ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل حل کرانے کے لئے ایک غیر سیاسی تنظیم گرینڈ اوورسیز کلب کا آغازکر دیاہے۔ بے لوث مدد کے لئے ہم نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کا سیکرٹریٹ لاہور میں ہوگا اوروہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کے لئے 24 گھنٹے عملہ موجود ہوگا، گرینڈ اوورسیز کلب کے بورڈ آف مینجمنٹ میں زندگی کے مختلف شعبوں کے نمایاں افراد شامل ہونگے اور ممتاز سابق بیوروکریٹ جاوید بخاری اس کے سربراہ ہونگے، جنہوں نے پہلے ہی اپنی ملازمت کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اربوں روپے واپس دلائے ہیں۔

کلب کی تفصیلات بتاتے ہوئے چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ اس تنظیم کی برانچیں دنیا کےان تمام ممالک میں قائم کی جارہی ہیں جہاں پرپاکستانی آباد ہیں۔برطانیہ اور آئرلینڈکے لئے راجہ عابد کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ جب کہ سکاٹ لینڈ میں گرینڈ اوورسیز کلب کے لئے ریاض محمد خان کو صدر، سید ناصر جعفری کو سینئر نائب صدر، رانا فیاض علی کو جنرل سیکرٹری ، شبانہ ناز کو ایڈیشنل سیکرٹری اور مصطفیٰ علی بیگ کو میڈیا سیکرٹری بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کرنا ہمیشہ میری اولین ترجیح رہی ہے۔ میں نے نواز شریف کے دور حکومت میں نے پنجاب اوورسیزکمیشن بنوایا، جس نے بے شمار افراد کی مدد کی۔ 12 ہزار کیسز میں ان کو انصاف دلوایا۔ میں نے پنجاب ہائی کورٹ کے 4 چیف جسٹس صاحبان سے ملاقاتیں کرکے انہیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پرقبضے کے سلسلہ میں بات کی، مجھے خوشی ہے کہ ان سب نے میری توقعات سے بھی زیادہ مجھ سے تعاون کیا، ایک چیف جسٹس تو ایسے واقعات کی تفصیل جاننے کے لئے خود بیرون ملک گئے اور وہ اس تمام صورتحال سے بہت متاثر ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ایک خصوصی عدالت بنائی جو صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کیسز سنتی ہے اور 6 ماہ میں فیصلہ سنانے کی پابند ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes