پاکستان کی 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کا تسلسل؛ ہائی کمیشن لندن میں مینگو فیسٹیول – Kashmir Link London

پاکستان کی 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کا تسلسل؛ ہائی کمیشن لندن میں مینگو فیسٹیول

لندن (عمران راجہ) پاکستان ہائی کمیشن لندن میں ’پاکستان مینگو فیسٹیول‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب مشن کی اقتصادی سفارت کاری کے حصے کے طور پر اور پاکستان کی 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر منعقد کی گئی۔پاکستان کے لیے برطانیہ کے تجارتی ایلچی مسٹر مارک ایسٹ ووڈ ایم پی مہمان خصوصی تھے جنہوں نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان کے ساتھ مل کر فیسٹیول کا افتتاح کیا۔

اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے آموں کے شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان میں برطانوی پارلیمنٹیرینز، سفارت کار، برطانوی حکومت کے افسران، کاروباری شخصیات، بڑے ریٹیل مالکان، ٹریول اینڈ فوڈ رائٹرز، میڈیا کے نمائندے، پاکستانی کمیونٹی کے اراکین اور پاکستان کے برطانوی دوست شامل تھے۔ فیسٹیول میں پاکستانی آموں کی نمایاں اقسام یعنی سنیرا، فجری، انور رتول، دیسی، چونسہ، سفید چونسہ، کالا چونسہ، لال بڈھسہ، سندھڑی اور پیلیٹ کی نمائش کی گئی۔ مہمانوں کو تازہ کٹے ہوئے آم، سلاد، دودھ شیک، لسی، میٹھے اور آئس کریم کے ساتھ پیش کیا گیا۔


شرکا نے نمائش میں موجود پاکستانی آموں کے ذائقے اور وسیع اقسام کو سراہا۔ہائی کمشنر معظم احمد خان نے اپنے ریمارکس کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستانی آم اپنے ذائقے، خوشبو اور بھرپور ہونے کی وجہ سے منفرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 250 سے زائد اقسام کے ساتھ پاکستان آم کا چھٹا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور چوتھا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ مسٹر مارک ایسٹ ووڈ نے پاکستانی آموں اور اس کے مختلف پکوانوں کے شاندار ذائقے پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے برطانیہ کے تجارتی ایلچی کی حیثیت سے وہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پاکستانی آموں کی برطانیہ کو برآمد بھی شامل ہے۔


قبل ازیں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات منسٹر ٹریڈ شفیق شہزاد نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ یہ تقریب ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، اسپائس ویلج، یو کے-پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور روشن فروٹس پاکستان کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان کی برطانیہ کو آم کی برآمد میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes