انور مقصود نے ساڑھے چودہ اگست میں آئیٹم سانگ کیوں پیش کیا ؟

لندن (مونا بیگ) پاکستان کے معروف لکھاری انور مقصود جو اپنی حس مزاح اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بے باک گفتگو سے جانے جاتے ہیں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر کوئی نہ کوئی شاہکار ڈرامہ قوم کو دے جاتے ہیں۔ اس سال انہوں نے ساڑھے چودہ اگست کے نام سے جو ڈرامی پیش کیا اس میں متعدد باتیں خاصی ذو معنی بھی تھیں۔ جس پر بعد میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے معذرت بھی کی۔
دراصل انور مقصود نےاپنے سیاسی مزاحیہ تھیٹر ڈرامے ساڑھے 14 اگست میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر قوم سے معافی مانگی ہے، انکا موقف ہے کہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست پاک و ہند کی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہے، چوں کہ اس وقت کی تہذیب و ثقافت دکھانا مقصد تھا اس لیے آئٹم سانگ کو تھیٹر ڈرامے میں شامل کیا گیا۔ بر صغیر کی تقسیم سے قبل بھی ہندوستان میں آئٹم سانگ کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن اُس وقت کی جو فلمیں ہوا کرتی تھیں، جو گانے ہوا کرتے تھے ان میں ایک تہذیب ہوتی تھی جو اب ہندوستان سے چلی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب بالی ووڈ میں آئٹم نمبر نے ان کی جگہ لے لی ہے جسے فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اور اس ایک گانے پر کروڑوں خرچ کیا جاتا ہے۔طنز و مزاح نگار انور مقصود نے پاک و ہند کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ دہلی اب اُجڑ گیا ہے، دہلی پہلے بھی کئی مرتبہ اُجڑا ہے، جہاں غربت ہے لوگوں کے پاس ایک وقت کی روٹی کے لیے پیسے نہیں ہیں وہاں ایک آئٹم نمبر پر 20 کروڑ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ میں زندگی میں ایسا ہرگز کبھی نہ کرتا، لیکن پڑوسی ملک کے حالات ایسے ہیں کہ یہ سمجھانے اور بتانے کے لیے مجھے یہ دکھانا پڑا کہ ایک گانے پر کروڑوں خرچ کرتے ہیں اور اسی شہر میں لوگ بھوکے بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں