بھیڑوں میں بھیڑیے

رویوں کا ایک عجیب سا بھپرا ہوا سیلاب ہے،بے قابو سا، خونخوار سا،لگتا ہے سب ہی جلدی میں ہیں، کسی کو آنے کی جلدی تو کسی کو جانے کی جلدی، اور اس جلد بازی میں ہماری بلا سے، کوئی کچلا جائے یا پھر مارا جائے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عجیب بھگدڑ اور افراتفری سی ہے۔اصول، قانون ، ضابطے، اخلاقیات، سماجی رویے، سب کچھ بڑی تیزی سے ملیامیٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔معلوم نہیں اس افراتفری کا انجام کیا ہوگا۔مہنگائی، سیاسی ہلچل، الیکشن میں ہار جیت،حکومتوں کی تبدیلی ہر جگہ ہی ہوتی ہے لیکن کہیں بھی باہمی کشمکش کے معاملات تلخی کی اس نہج کو نہیں پہنچتے جو ہمارے ہاں دیکھنے میں آرہی ہے۔سیاسی مخالفین کا تمسخر اڑانا، نظریاتی اختلاف پرایک دوسرے سے دست و گریباں ہونا، پگڑی اچھالنا کسی طور بھی قابل ستائش نہیں، حد تو یہ ہے کہ بعض دفعہ جذباتیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ایک دوسرے کی ماں بہن کی تکریم بھی نظر انداز کردی جاتی ہے۔عورت کا احترام تو ہماری بنیادی اخلاقی تربیت کا حصہ ہوا کرتا ہے، دین بھی ہمیں عورتوں اور بچوں کے احترام اور خیال داری کی تعلیم دیتا ہے مگر ہم ہر سبق کو بھولتے جارہے ہیں۔معلوم نہیں اس طوفان بدتمیزی کو کون روکے گا۔ہمیں اس سچائی کو سمجھنا چاہیے کہ معاشرتی انتشار اور افراتفری کا فائدہ ہمیشہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو خود کو کبھی معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے، ایسے لوگوں کو انگریزی میں Allien کہا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذاتی مفاد کے حصول کا کوئی موقعہ ضائع نہیں ہونے دیتے۔ایسے لوگوں کی خود غرضی ہمارے باہمی انتشار کو دیکھ کر اور بھی توانا ہوجاتی ہے۔اختلاف رائے ضرور رکھیں، یہ آپ کا بنیادی حق ہے، اپنے نظریے پر سختی سے کاربند رہیے، آپ کو نظریہ بدلنے پر کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا لیکن بنیادی اخلاقیات کا دامن کسی طور ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیجیے۔

اخلاقی پستی کی ایک بدترین مثال گزشتہ دنوں تب دیکھنے میں آئی جب امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایک فوجی ہیلی کاپٹر لسبیلہ کے قریب سیلابی علاقے میں کسی فنی خرابی کے سبب حادثے کا شکار ہو گیا، بہت سی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، ساری قوم اس سانحے پر افسردہ تھی لیکن کچھ لوگوں نے اس حادثے کو تفنن طبع کا ذریعہ بنالیا، بے بنیاد الزامات، غیر منطقی تجزیے، مضحکہ خیزفکری نکتے، کچھ کارٹون، توہین آمیز نعرے اور پتہ نہیں کیا کیا، ایسے لوگوں کی طرف سے اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی قربانی کو ہر طرح سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔اگرچہ قومی سطح پر اس طرح کی ملک دشمن مہم جوئی کی سخت ترین انداز میں مذمت کی گئی لیکن شہداء کے لواحقین کی اس دوران جو دل آزاری ہوئی اس کا کسی طور بھی ازالہ ممکن نہیں۔اس سارے کھیل میں سوشل میڈیا کو جس بھیانک انداز میں استعال کیا گیا وہ اپنی جگہ بہت سے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔غور کریں تو پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال جس خطرناک انداز میں آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر اسے روکا نہیں گیا، تو نہایت تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔آج بھی عدالتوں میں ایسے بہت سے معاملات زیر بحث دکھائی دیتے ہیں جن کی ابتداء سوشل میڈیا سے ہوئی۔ پولیس ریکارڈ بھی سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے لڑائی جھگڑوں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بربادی دیکھنے میں آرہی ہے، کسی بھی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگا کر کیپشن دے دیا جاتا ہے، ـ‘‘ میں ایک نرس ہوں،جائیداد بھی ہے اور بہت سے دیگر مالی وسائل بھی، ماں باپ بہن بھائی کوئی بھی نہیں، ایسے جیون ساتھی کی تلاش میں ہوں جو مجھے ہر طرح سے خوش رکھ سکے۔ صرف سنجیدہ لوگ ان باکس میں رابطہ کریں۔’’ ایسی پوسٹوں پر لوگ اندھا دھند کمنٹس کرنا شروع کردیتے ہیں، جس کی تصویر ہوتی ہے اس بے چاری کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ سوشل میڈیا پر اس کے لیے رشتے کی تلاش کی جارہی ہے۔آن لائین سامان کی فروخت کی بھی ایسی بہت سی ویب سائیٹس ہیں جو دن رات معصوم لوگوں کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں، دکھایا کچھ جاتا ہے، بھیجا کچھ، پھر مزید ظلم یہ کہ شکایت اور ازالے کے لیے دیے گئے موبائل نمبر بولتے ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے جعلسازوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے اگرکوئی ادارہ ہے تو وہ بے بس کیوں؟ کیا ساری دنیا میں سوشل میڈیا کا استعمال اسی آزادانہ انداز میں ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے قواعد و ضوابط طے کردیے گئے ہیں اور ان پر سختی سے عمل بھی کروایا جاتا ہے تو پھر سوشل میڈیا کو اس معاملے میں ڈھیل کیوں دی جاتی ہے؟

لسبیلہ ہیلی کاپٹر کریش کو ہی دیکھ لیں، نام نہاد یو ٹیوبرز نے ایسی ایسی تجزیاتی کہانیاں گھڑ کر عوام کو گمراہ کیا کہ عقل دنگ رہ گئی۔ ان یو ٹیوبز میں ایک بڑی تعداد ان نوجوانوں کی ہے جو بے روزگار ہیں اور انہوں نے سن رکھا ہے کہ ان کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائیب کرنے والوں کی تعداد اگر تین چار ہزار سے بڑھ جائے تو فیس بک والے انہیں ڈالروں میں ادائیگی کرنے لگیں گے۔بس اسی لالچ میں وہ عوام کو بے وقوف بنانے کا ہر حربہ اپناتے چلے جاتے ہیں۔لسبیلہ سانحے کو اپنی مرضی کا رنگ دینے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو بلوچستان اور سندھ کے جغرافیائی حدود اربع سے ہی واقف نہیں ہوں گے۔ ہیلی کاپٹر کہاں حادثے کا شکار ہوا، کہاں سے روانہ ہوا اور حادثہ کیسے ہوا، کون کون لوگ سوار تھے، ان لوگوں کی کیا کیا خدمات تھیں ، ان نام نہاد تجزیہ کاروں کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ایک یوٹیوبی دانشور نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار نہیں ہوا، اسے مار گرایا گیا ہے۔ایک اور ‘ مفکر’ نے تو ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کردی جس میں ایک ہیلی کاپٹر کو میزائل سے نشانہ بنایا جارہا تھا اور کیپشن میں صر ف یہ لکھا کہ ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا منظر۔ کسی محب وطن نے کمنٹس میں لکھا کہ لوگوں کو گمراہ مت کرو، یہ ویڈیو کلپ دس سال پہلے کا ہے اور یہ منظر افغانستان کا ہے۔دراصل اس طرح کی گمراہ کن کاوشوں کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ قوم کی توجہ اصل موضوع سے ہٹا کر انہیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھا دیا جائے۔ صرف بلوچستان ہی نہیں ، پاکستان بھر میں سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس سے نمٹنے میں ہمارے سول اور عسکری اداروں نے جس پرخلوص انداز میں عوام کی مدد کی، اس سے عوام نہ صرف آشنا ہیں بلکہ معترف بھی۔بلوچستان میں چونکہ تباہی زیادہ ہوئی اور وہاں لوگوں کے پاس وسائل کی کمی بھی تھی، ایسے میں فوج کو دیگر سیلاب زدہ علاقوں کے مقابلے میں یہاں لوگوں کی مدد کے لیے زیادہ تگ و دو کرنا پڑی۔ یہی سبب ہے کہ آج لیفٹننٹ جنرل سرفراز اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر سارا بلوچستان سوگوار نظر آتا ہے۔

لیکن دو نمبر فیس بکی دانشور اپنی تصوراتی کمائی کی خاطر، تمام حقائق کو اس انداز سے ملیامیٹ کرنے میں مصروف ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوجائے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک منظم انداز میں پاکستان کے ہر اس ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے پاکستان کی سلامتی اور بقاء کا ضامن سمجھا جاتا تھا۔ چند بدخواہوں نے ہماری عدلیہ سے لے کر عسکری اداروں تک ، ہر ایک کو متنازعہ بنادیا ہے۔ہماری سلامتی اور تحفظ کی ذمے دار قوتوں کو ایسے مکروہ کرداروں سے نمٹنے کے لیے کوئی نہایت ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ورنہ صورت حال نہایت سنگین ہونے کا اندیشہ ہے۔سوشل میڈیادانشوروں کے ریوڑ میں موجود ذہنی بیمار بھیڑوں کا کوئی نہ کوئی علاج جلد ڈھونڈیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بیماری وباء کی صورت اختیار کرجائے۔ آزادیء اظہار بے شک بنیادی انسانی حقوق میں نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن آزادی اور انتشار میں فرق پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔انتشار دراصل بربادی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں