مسلم دنیا میں مصنوعات کے بائیکاٹ اور فرانس کے خلاف جارحانہ رویہ پر وزیر داخلہ کا اظہار تشویش – Kashmir Link London

مسلم دنیا میں مصنوعات کے بائیکاٹ اور فرانس کے خلاف جارحانہ رویہ پر وزیر داخلہ کا اظہار تشویش

پیرس (کشمیر لنک نیوز) دنیا بھر میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ اور فرانس کے خلاف جارحانہ رویہ پر فرانسیسی وزیر داخلہ نے تشویش کا اظہار کردیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے کہا ہے کہ کسی کو فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
فرانسیسی صدر کے گستاخانہ بیان کے ردعمل میں مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کے بعد فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ اور فرانس کے خلاف احتجاج کی کال بے بنیاد ہے اور اس کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔


فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک بنیاد پرست اقلیت کے اشاروں پر اٹھائے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق فرانس نے اپنے اتحادی ممالک کو فرانس کا موقف واضح کرنے کے لئے سفارتی ذرائع کی مدد حاصل کی ۔ فرانس نے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بائیکاٹ کے مطالبات سے خود کو دور کر لیں اور فرانسیسی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انکا پارلیمنٹ کے ایخ خصوصی اجلاس میں یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری مقابلہ بنیاد پرست اسلامی نظریئے سے ہے، مذہب اسلام سے نہیں۔ فرانس میں آج بھی کثیر تعداد میں ایسے مسلمان ہیں جو ملک کے قانون کی پاسداری کرتے ہین۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی وزیر داخلہ نے یہ بیان ترک صدر کے اس بیان کے بعد دیا ہے جس میں رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کے ’اسلام مخالف‘ ایجنڈے کی وجہ سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔
ترک صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میخواں کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھایا تھا جس کے بعد فرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے حیران کن ہے کہ غیر ملکی طاقتیں فرانس میں ہونے والے واقعات میں مداخلت کر رہی ہیں۔


فرانسیسی وزیر داخلہ نے فرانس انٹر ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ترکی اور پاکستان کا حوالہ دیا جہاں کی پارلیمنٹس نے قراردادیں پاس کر کے اپنی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فرانس سے اپنے سفیر کو واپس بلائیں۔
واضع رہے کہ پاکستان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے پیر کو ایک متفقہ قرارداد منظور کی تھی جس میں فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی مذمت کی گئی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ پیرس سے اپنے سفیر کو واپس بلائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes