سچ بولنے پر انتہا پسند ہندو آگ بگولا، امیتابھ بچن پر مقدمہ درج کرادیا – Kashmir Link London

سچ بولنے پر انتہا پسند ہندو آگ بگولا، امیتابھ بچن پر مقدمہ درج کرادیا

لندن (مونا بیگ) بالی وڈ کی معروف شخصیت جو آجکل کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام کی وجہ سے بلندیوں کے اسی مقام پے جس پر دو دہائیاں قبل تھی، جی ہاں بگ بی یعنی امیتابھ بچن ایک کڑوا سچ بولنے کی پاداش میں ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں۔
شو کے میزبان سے ناراضگی اتنی بڑھ چکی کہ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرادیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امیتابھ کا پروگرام اس وقت تنازع کا شکار ہوا جب انھوں نے ہندو مذہب سے متعلق ایک کتاب کے حوالے سے سوال کیا۔ یہ پروگرام تیس اکتوبر کو آن ایئر ہوا تھا۔

انتہا پسندوں کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے ہندو برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جس پر امیتابھ بچن کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔


کون بنے گا کروڑ پتی کے اس پروگرام کے مہمان سماجی کارکن بیزواڈا ولسن اور اداکار انوپ سونی تھے، ان سے پروگرام کے میزبان امیتابھ بچن نے سوال کیا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کس کتاب کے اوراق کو جلایا تھا؟

ہندو مذہب سے جڑی چار اہم کتابوں کے نام آپشنز کیلئے موجود تھے تاہم مہمانوں نے درست جواب دیدیا تو میزبان نے حسب معمول واعے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر قدیم ہندو کتاب منوسمرتی کے اس نظریے کے خلاف تھے جو ذات پات کے فرق اور اچھوت ہونے کی بات کرتی ہے جبکہ انھوں نے اسے نذرآتش بھی کردیا تھا۔


پروگرام میں اس سوال اور پھر اس کے جواب پر آنے والی تفصیل کے بعد نہ صرف امیتابھ بچن پر مقدمہ درج ہوگیا بلکہ اس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین بھی بگ بی پر برس پڑے ہیں۔ ایک ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ بگ بی کو اب نہ کوئی دیکھنا اور نا ہی سننا چاہتا ہے، قوم نے اسے بہت کچھ دیا لیکن اس نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا۔


دوسری جانب بگ بی کی سپورٹ میں بھی بہت لوگ میدان میں ہیں بلکہ انکی حمائت میں ٹویٹس کیوجہ سے سٹینڈ ود بگ بی کا ٹرینڈ بھی بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، آیا انتہا پسند مقدمہ واپس لیتے ہیں یا بگ بی انکے جذبات مجروع کرنے پر ان سے معافی مانگتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes