“ حاتم طائی یا قارون ’’ – Kashmir Link London

“ حاتم طائی یا قارون ’’

کچھ دن پہلے ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی جن کے کئی گھر اور جائیداد یں پاکستان اور انگلینڈ میں موجود ہیں جو وہ اب اپنی بیوی اور بچوں کے نام کرنا چاہ رہے تھے۔ میں نے پوچھ لیا کہ آپ نے ساری عمر یہ سب جائیدادیں اور گھر اپنے نام پر بنانے میں لگا دی اور اب خود ہی اس کو دوسروں کے نام لگوا رہے ہیں؟ تو وہ خاموش ہو گئے اور بے بسی ان کی آنکھوں سے عیاں تھی۔ ان کی خامشی اور بے بسی ان گنت سوالات چھوڑ گئی مگر کچھ سوالوں کے جواب بھی دے گئی کہ دنیا کا مال آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی دنیا میں رہ جائے گا۔ جس طرح آپ خالی ہاتھ آئے تھے اسی طرح خالی ہاتھ واپس چلے جائیں گے۔

جب یہ سب کچھ اتنا مختصر اور عارضی ہے تو انسان اس حقیقت کو سمجھ کیوں نہیں پا رہا۔ کیوں وہ اپنی زندگی کا بہترین حصہ دولت کے انبار لگانے میں لگا دیتا ہے۔ وہ ہر غلط یا صحیح طریقے سے مال و دولت اکٹھی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شائد یہ دولت، یہ گھر اور کاروبار سب ازلی ہیں اور یہ ہی کامیاب زندگی ہے۔ یہ سب کچھ حاصل کرتے ہوئے نہ تو وہ لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہوئے ڈرتا ہے اور نہ ہی حلال و حرام کی تمیز کو ضروری سمجھتا ہے۔ اور انجام، بس خالی ہاتھ اور افسردگی!

 ہمارے سامنے ایسے ایسے لوگ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں جن کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں اور پیسوں کا بھی انبار ہے پر نہ تو وہ لاکھوں لوگ ان کی ایک سانس بڑھا سکے اور نہ ہی پیسہ کسی کام آیا۔ تو پھر حاصل زندگی کیا ہے؟ مال و دولت یا تعلیم و تربیت اور فلاح انسانیت۔

بہترین زندگی گزارنے کی جستجو ضرور کرنی چاہئے مگر اس کے لئے جائز اور مناسب طریقے استعمال کریں۔ مال و دولت کمانا کو ئی بری بات نہیں ہے پر انبار لگانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ اپنی صلاحیتیں صرف جائیدادیں بنانے پر نہیں بلکہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر بھی استعمال کریں۔ دولت کوتقسیم کریں، غصب نہ کریں۔ اچھااور صاف ستھرا لباس ضرور پہنیں مگر  دوسروں کو ننگا مت کریں۔ اپنا گھر خوبصورت بنائیں پر دوسروں کو بھی رہنے کا حق دیں۔ آپ اچھی گاڑی ضرور چلائیں پر راستے پر دوسروں کو بھی چلنے کا حق دیں۔ اپنے بچوں کو لوٹ کسوٹ کی دولت کی بجائے بہترین تعلیم دیں۔ نفرت کو روکیں اور خوشیوں کو عام کریں۔ دوسروں کے دکھ درد بانٹیں اور کسی کی دل آزاری نہ کریں۔ ایمانداری کو اپنا شیوہ بنائیں اور فریب و دغابازی سے پہلو تہی کریں۔ سچ کا ساتھ دیں اور جھوٹ سے اجتناب کریں۔ جہالت سے جان چھڑائیں اور علم و آگہی کا دامن پکڑیں۔

 زندگی گزارنے کے لئے کچھ چیزیں ضروری ہیں پر کسی کے حقوق غصب کرنا نا انصافی ہے۔ ہمیں بحثیت انسان ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے جس سے افسردگی بھی نہ ہو اور زندگی بھی آرام سے گزرے۔ ضمیر پر بوجھ بھی نہ بنے اور لوگ بھی بعد از مرگ یاد رکھیں۔ حاتم تائی کی سخاوت آج بھی ضرب المثل ہے جبکہ قارون کی دولت کا نام و نشان کہیں نظر نہیں آتا۔ اللہ پاک ہم سب کو صحیح اور غلط کوسمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہمیں سیدھے رستے پر چلنے کی ہمت دے۔ امین۔

50% LikesVS
50% Dislikes