سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن مائیک ٹائسن 28 نومبر کو دوبارہ رنگ میں اترنے کو تیار – Kashmir Link London

سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن مائیک ٹائسن 28 نومبر کو دوبارہ رنگ میں اترنے کو تیار

لندن (عمران راجہ) باکسنگ کی دنیا میں عالمی سطح پر منفرد نام کمانے والی سابق ہیوی ویٹ چیمپئین مائیک ٹائسن نے ایک بار پھر سے رنگ میں اترنے کا اعلان کردیا ہے۔
اٹھائیس نومبر کو مائیک ٹائسن کا دوستانہ نمائشی میچ روئے جونز جونیئر کے ساتھ ہو گا۔ باکسنگ کا یہ میچ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بڑے شہر لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا۔

اس موقع پر کئی سوالات شائقین کے دماغوں میں گردش کر رہے ہیں۔ کیا مائیک ٹائسن میں اتنی قوت و طاقت ہے کہ وہ اپنی سابقہ پرفارمنس کا مظاہرہ کر سکیں گے؟ کیا ٹائیسن کی صحت پندرہ برس بعد رنگ میں اترنے کے قابل ہے؟ ایسے ہی بہت سارے خدشات شائقین کو گھیرے ہوئے ہیں مگر وہ پرجوش بھی ہیں۔

اپنے انساٹا گرام پر مائیک ٹائسن نے لکھا کہ یہ مقابلہ بہت سخت اور شدید ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے بعض اوقات میچ ہارے بھی ہیں لیکن اٹھائیس نومبر کو وہ میچ جیت لیں گے۔ اس میچ کے منتظمین نے مقابلے کو ایک نمائشی اور دوستانہ میچ کا درجہ دے رکھا ہے۔ یہ آٹھ راؤنڈز پر مشتمل ہو گا۔ اس میچ کی منظوری کیلیفورنیا کے ایتھلیٹک کمیشن نے بھی دے دی ہے۔


ابتدائی اعلان کے مطابق یہ میچ رواں برس بارہ ستمبر کو ہونا تھا اور امکاناً کورونا وبا کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ مائیک ٹائیسن کو اپنے عروج کے دور میں فولادی مائیک یا ‘آئرن مائیک‘ کی عرفیت حاصل تھی۔ اب اٹھائیس نومبر کو ہی معلوم ہو سکے گا کہ فولادی مائیک میں کتنا فولاد باقی رہ گیا ہے۔
اس وقت ٹائیسن کی عمر چون برس اور ان کے حریف روئے جونز جونیئر اکاون برس کے ہیں۔

فولادی مائیک‘ کا پروفیشنل کیریئر سن 1985 سے سن 2005 کے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ باکسنگ مقابلوں میں ان کا رویہ بہت ہی جارحانہ ہوتا تھا اور اس باعث انہیں ‘رنگ کا خطرناک ترین انسان‘ قرار دیا گیا۔ ماہرین انہیں باکسنگ کی تاریخ کا ایک لازوال باکسر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ تیرہ برس تک باکسنگ کے غیر متنازعہ چیمپیئن تھے۔ انہیں سن 1991 میں جنسی زیادتی کے ایک مقدمے کا بھی سامنا رہا اور اس میں انہیں چھ برس کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔


ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ جیل میں قید کے دوران انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا تاہم اس بارے زیادہ معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
جون 1997 میں ٹائسن اور ایوینڈر ہولی فیلڈ کے درمیان میں ہونے والا باکسنگ مقابلہ اپنی نوعیت کی منفرد فائٹ ثابت ہوئی جو ٹائسن کو ڈس کوالیفائی کیے جانے پر منتج ہوئی۔ انھوں نے ہولی فیلڈ کو اپنے مکوں سے قابو کرنے کے بجائے دو مرتبہ ان کا کان ہی چبا ڈالا تھا۔


ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب 2009 میں ان کی چار سالہ بیٹی گھر میں موجود ایکسرسائز مشین میں گردن پھنس جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes