برطانیہ میں ناجائیز اثاثہ جات کیس کی ملزمہ ضمیرہ حاجی ایوا کی آخری اپیل بھی رد – Kashmir Link London

برطانیہ میں ناجائیز اثاثہ جات کیس کی ملزمہ ضمیرہ حاجی ایوا کی آخری اپیل بھی رد

لندن (مبین چوہدری) دنیا بھر سے ناجائیز دولت لوٹ کر برطانیہ آباد ہونے والے دولت مند افراد اور ایسی دولت کے حصہ داروں کو شکنجے میں لانے کیلئے متعارف کرائے گئے قانون کی زد میں آنے والی پہلی خاتون کی آخری اپیل برطانوی سپریم کورٹ نے بغیر سنے رد کردی ہے۔
ضمیرہ حاجی ایوا کی جانب سے برطانوی قانون ‘ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر‘یعنی یو ڈبلیو او کے خلاف کی گئی اپیل کا فیصلہ ان کے خلاف آیا جس میں برطانوی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان کی موقف کی کوئی قانونی دلیل نہیں ہے اور کیس سننے سے انکار کر دیا۔

برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خیال ہے کہ ضمیرہ کے پاس تمام دولت ناجائیز طریقے سے حاصل کردہ ہے، اس سلسلے میں جب انہوں نے تفتیش کا آغاز کیا تو پتہ چلا کہ اس خاتون نے لندن کے معروف سٹور ہیرڈز سے ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈز سے زیادہ کی شاپنگ کی تھی اور انھوں نے سٹور کے قریب ایک 12

ملین پاؤنڈز کی مالیت کا گھر اور برکشائر میں ایک گالف کورس بھی خرید رکھا ہے۔
یو ڈبلیو او کے تحت قانون بافذ کرنے والے برطانوی ادارے ایسے کسی بھی فرد سے اس کے اثاثوں بارے پوچھ سکتے ہیں اور بار ثبوت متعلقہ فرد پر آجاتا ہے کہ وہ بتائے اس نے یہ اثاثے قانونی طور پر برطانیہ منتقل کیئے اور ساتھ ہی یہ ثابت بھی کرے کہ جہاں سے منتقل کئے گئے تھے وہاں کس طریقے سے کمائے گئے۔


پاکستان چاہے تو اسی طرح کا مطالبہ نواز شریف بارے کرسکتا ہے لیکن شائد وہ ایسا نہ کرے کیونکہ الزام کیلئے بھی برطانیہ میں ثبوت دینے پڑتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ضمیرہ حاجی ایوا کے خلاف آنے والا فیصلہ آنے والے وقتوں میں بڑا معاون ثابت ہوسکتا ہے، واضع رہے ایسی تمام دولت کو قانونی ثابت نہ کی ساسکے اسے برطانیہ بحق سرکار ضبط کرنے کا مجاز ہوگا۔
اس فیصلے کے بعد ممکن ہے کہ وہ لندن میں اپنا 12 ملین پاؤنڈ کی مالیت کا گھر بھی ہار جائیں اگر وہ اپنے اثاثوں کی وضاحت نہ کر پائیں۔

ضمیرہ حاجی ایوا کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ وہ آذربائیجان کے ایک سرکاری بینکار کی اہلیہ ہیں جو کہ آذربائیجان میں سرکاری بینک کے ساتھ کروڑوں پاؤنڈ خرد برد کرنے کے الزام میں جیل میں قید ہیں۔ گذشتہ سال مقامی عدالت نے ان کو آذربائیجان واپس بھیجنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہاں ان کے ساتھ غیر جانبدارانہ سلوک نہیں ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes