پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کی قیمت 85 ہزار امریکی ڈالر – Kashmir Link London

پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کی قیمت 85 ہزار امریکی ڈالر

لندن (عدیل خان) پاکستان کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں دنیا کے امیر ترین لوگ جانے کے خواہشمند ہوتے ہیں، یہ لوگ چند روزہ دورے میں ملک کو کروڑون روپے کا زرمبادلہ دے جاتے ہیں۔
ان علاقوں میں عرب شہزادوں کی رحیم یار خان کے گرد و نواح میں شکار گاہیں اور گلگت و چترال میں مارخور کے شکار کے مواقع شامل ہیں۔


حال ہی میں ضلع چترال میں جوزف بریڈ فورڈ نامی ایک امریکی شہری نے 85 ہزار امریکی ڈالر کے عوض 39 انچ لمبے سینگ والے مارخور کا تیر کمان سے شکار کیا ہے۔

اس علاقے میں تقریبا“ ہر سال ہی ایسی مالیت کے شکار کھیلے جاتے ہیں۔ اس بارے میں البرہان ولیج کنزرویشن کے اور مقامی شخصیت صدر شہزادہ سکندر الملک کا کہنا ہے کہ امریکی شہری نے یہ شکار توشی کے علاقے میں کیا ہے۔


ان کے مطابق اس مار خور کے شکار میں پانچ دن کا عرصہ لگایا گیا۔ یہ شکار تیر کمان کے ذریعے کیا گیا جب کہ اس کے برعکس عام طور پر شکار کے لیے جدید ہتھیار کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ البرہان ولیج کنزرویشن مارخوروں کی دیکھ بھال کا ادارہ ہے اور ادارے کے پاس تین واوچر ہر سال موجود ہوتے ہیں۔ جو انہیں حکومت سالانہ بنیادوں پر جاری کرتی ہے۔
ان میں سے دو پرمٹ توشی اور ایک پرمٹ گہیرت کے لیے جاری ہوتے ہیں جب یہ پرمٹ فروخت کر دیا جاتا ہے تب اس کے لیے شکاری ڈھونڈے جاتے ہیں اور بولی لگائی جاتی ہے۔ جو شکاری زیادہ بولی لگاتا ہے اسے شکار کی اجازت مل جاتی ہے۔

مارخور کے شکار کا یہ پرمٹ فروخت ہونے کے بعد اس سے جو پیسہ ملتا ہے اس کا 80 فیصد حصہ علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے اور عموما اسے علاقے میں ترقیاتی کاموں وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، 20 فیصد رقم حکومت کو جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارخور کے شکار کے اس انتظام کے تحت بالخصوص عمر رسیدہ مارخور کا چناؤ کیا جاتا ہے، چھوٹے مارخور کا شکار نہیں کیا جاتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes