جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ آنے پناہ گزینوں کا سرحدی پولیس کے غیر انسانی سلوک کا شکوہ – Kashmir Link London

جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ آنے پناہ گزینوں کا سرحدی پولیس کے غیر انسانی سلوک کا شکوہ

لندن (مبین چوہدری) جدید دور میں روائیتی اور غیرقانونی طریقوں سے یورپ اور خاص طور پر مغربی یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی اکثریت نے شکائت کی ہے کہ بارڈر فورس جسے فرینٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے انہیں بار بار پیچھے دھکیل دیتی رہی جس سے انکے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی۔

فائل ویڈیو رپورٹ

مہاجرین کا کہنا ہے کہ یورپی سرحدوں کی نگران پولیس فرنٹیکس انہیں اپنی سرحدوں سے واپس دھکیلنے سے گریز نہیں کرتی اور یہ بھی نہیں سوچتی کہ یہ بے آسرا لوگ کہاں جائیں گے۔

بارڈرز پر ان بے سہارہ لوگوں کیلئے کھانا فراہم کرنے والی رضاکار تنظیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھی متعدد بار فرینٹیکس کے پش بیکس کا بتایا گیا ہے، امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شمالی مقدونیہ اور البانیہ کی سرحدوں پرپُش بیکس کے کئی واقعات کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فرنٹیکس نےپُش بیکس کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس یورپی ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بات مصدقہ شواہد کی عدم موجودگی میں عام کی گئی ہے اور یہ بے بنیاد الزام ہے۔تنظیم اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی چارٹر برائے انسانی حقوق سے آگاہ بھی ہے اور ڈیوٹی کے دوران اس کا پوری طرح احترام بھی کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے وکلا کا کہنا ہے کہ مجموعی صورت حال پیچیدہ اور مبہم ہے، جس میں ایسے الزامات کی تردید یا تصدیق کرنا بھی ایک مشکل عمل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ البانوی سرحدوں پر فرنٹیکس غیر معمولی طور پر سرگرم ہے۔ بلغاریہ، یونان اور ترکی کی سرحدوں پرپُش بیکس روزانہ کی بنیاد ہو رہا ہے۔


واضع رہے کچھ عرصہ قبل یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس نے واشگاف انداز میں کہا تھا کہ اسپین کے ذریعے یورپی یونین میں داخل ہونے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تارکین وطن کے لیے یورپ پہنچنے کا ایک نیا اور اہم راستہ بنتا جا رہا ہے۔

یونان کی سرزمین پر پھنسے ہوئے ہزاروں لوگ آگے نکلنے کو خواہش پر روزانہ بیدار ہوتے ہیں اور جسکا جہاں اور جیسے دائو لگتا ہے وہ یورپ کیلئے نکل پڑتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر موت انکی منتظر ہوتی ہے ایسے میں جیتے جاگتے انسانوں کیطرف سے دھتکارا جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ جنگلوں اور میدانوں میں کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہنے والا ہی بتاسکتا ہے۔ واضع رہے ایسے کیسز پہلے بھی سامنے آچکے ہیں اور یورپی پارلیمنٹ اسکی تحقیق بارے بھی کہہ چکی ہے تاہم فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریان احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں اسلیئے کسی قسم کی انکوائیری کی ضرورت نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes