پاکستان ورلڈ کلاس فاسٹ بائولرز متعارف کرانے میں پیچھے کیوں رہ گیا، وجوہات پر غور کون کریگا ؟ – Kashmir Link London

پاکستان ورلڈ کلاس فاسٹ بائولرز متعارف کرانے میں پیچھے کیوں رہ گیا، وجوہات پر غور کون کریگا ؟

لندن(مسرت اقبال) ایک وقت تھا جب پاکستان کا شمارورلڈ کلاس فاسٹ بولرز متعارف کرانے والے ممالک میں ہوتا تھا، پیسرز کا ایک عرصے تک عالمی کرکٹ میں رعب و دبدبہ تھا، وقت گزرنے کے ساتھ کھیل کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اس معاملے میں بھی پاکستان نیچے جانے لگا۔

شائد کرکٹ شائقین کو یاد ہوکہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ٹاپ 3 بولرز پیسرز ہی ہیں، وسیم اکرم 414 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ پرموجود ہیں،ان کے بعد وقار یونس 373 اور عمران خان 362 وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ ماضی میں اچھے بیٹسمینوں کی وجہ سے مشہور بھارت بھی اس شعبے میں آگے نکل گیا ہے، اس حوالے سے راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران سامنے آنے والے اعدادوشمار پاکستانی پیس بیٹری کی چارجنگ ختم ہونے کا اشارہ کررہے ہیں۔ پاکستان کے پاس بہترین بائولنگ اٹیک ہونے کے باوجود گذشتہ 25 برس کے دوران کوئی بھی فاسٹ بولر 200 تک وکٹیں حاصل نہیں کرپایا۔

اس عرصے کے دوران صرف بنگلادیش اور زمبابوے ہی گرین کیپس کے ساتھ اس فہرست میں موجود ہیں۔ ان 25 برس میں جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ 8 فاسٹ بولرز نے ٹیسٹ وکٹوں کی ڈبل سنچری مکمل کی۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں،ان کے بالترتیب 7 اور 6 پیسرز نے یہ اعزاز پایا،نیوزی لینڈ کے 4 پیسرز یہ کارنامہ انجام دے چکے، بھارت اور ویسٹ انڈیز 2،2 بولرز کے ساتھ فہرست میں موجود ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes