خراب کارکردگی پر جب کھلاڑیوں کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو کوچز کا کیوں نہیں، مصباح اور وقار کٹہرے میں – Kashmir Link London

خراب کارکردگی پر جب کھلاڑیوں کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو کوچز کا کیوں نہیں، مصباح اور وقار کٹہرے میں

لندن (مسرت اقبال) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار کے حصول کیلئے نعرہ لگایا تھا کہ اگر اوپر بیٹھا بندہ (وزیراعظم) کرپٹ ہوتو ملک و قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتے، یہاں ہمیں سیاست بالکل نہیں کرنی بس یہ بتانا ہے کہ جب وہ ایسی باتیں کیا کرتے تھے پاکستان کی کرکٹ ٹیم دنیا میں نام کما رہی تھی اور اب جبکہ کرکٹ کا کپتان خود وزیراعظم ہے تو کرکٹ ٹیم کی حالت ایسی شرمناک ہوچکی ہے کہ بیان کے قابل نہیں۔
اپنے ملک میں زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کو بلاکر اور ہرا کر خود کو ہیرو سمجھنے والے کھلاڑی اور انکے کوچ نیوزی لینڈ میں اس بری طرح سے پٹے کہ عوام کو کرکٹ کے نام سے نفرت ہونے لگی۔

ایسے میں عوامی مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو ناقص کارکردگی کی بنا پر فارغ کیا جاسکتا ہے تو کوچز کو کیوں نہیں، اس مطالبے کے زور پکڑنے پر امید بندھ چلی ہے کہ جلد ہی ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بائولنگ کوچ وقار یونس جو عرصہ دراز سے ٹیم کو بہتر بنانے کے بجائے کمزور کررہے ہیں اب اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔

نیوزی لینڈ سے بری طرح شکست کھا کر وطن واپس پہنچنے والے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے حسب معمول ایک پریس کانفرنس کرکے اپنے من پسند میڈیا کے ذریعے گرد جھاڑنے کی ناکام کوشش تو کی ہے لیکن انکی باتوں سے عیاں تھا کہ وہ بھی اپنے انجام سے باخبر ہیں۔
پریس کانفرنس میں انکا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم نے سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کی لیکن تین ہفتوں تک ہوٹل کے کمروں میں بند رہنا اور بائیو سکیور ببل کی پابندیوں کے باعث کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔

مصباح الحق نے مزید کہا کہ نتائج نہیں آئے میں مانتا ہوں لیکن کسی کی بھی کمٹمنٹ میں فرق نہیں تھا، سب نے محنت کی ہے، میں معذرت کر رہا ہوں اور نہ بہانے پیش کر رہا ہوں، ٹورنگ ٹیموں کو موجودہ کووڈ حالات میں مشکلات پیش آرہی ہیں، انجریز بڑھ رہی اور ہیں دماغی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ دیگر ٹیموں کے کوچز بھی کہہ رہے ہیں۔

مصباح اور وقار کل لاہور میں کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کی کارکردگی پر وضاحت دیں گے ذرائع کے مطابق دونوں کو ہٹانے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تاہم اس پریس کانفرنس میں مصباح نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کچھ ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes