کیا موجودہ حکومت براڈ شیٹ کے قصورواروں کو کٹہرے میں لاسکے گی ؟ – Kashmir Link London

کیا موجودہ حکومت براڈ شیٹ کے قصورواروں کو کٹہرے میں لاسکے گی ؟

لندن (مبین چوہدری) سیاستدانوں کی برطانیہ میں جائیدادوں کا کھوج لگانے کی آڑ میں پاکستانی قوم کے ملین پائونڈز ڈکار جانے والوں کا راز فاش کرنے کیلئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کابینہ سے منظور کے بعد پبلک کردی گئی ہے۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ایسٹ ریکوری معاہدہ حکومتی اداروں کا بین الاقوامی قانون نہ سمجھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ براڈشیٹ کو ادائیگی کا معاہدہ 22 لاکھ ڈالر میں کیا گیا تھا، احمر بلال صوفی نے اسوقت کے براڈشیٹ کے چیئرمین جیری جیمز سے رابطہ کیا تھا، جیری جیمز جس سے پہلا معاہدہ کیا گیا اس کا براڈشیٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اُس وقت کے نیب چیئرمین نوید احسان بھی اس معاہدہ میں شامل تھے۔
کمیشن کی رپورٹ میں اس حقیقت کا بھی برملا اظہار کیا گیا کہ تحقیقات کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے سوا متعلقہ حکومتی اداروں میں سے کسی نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پاکستان ہائی کمیشن لندن سمیت براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہر جگہ سے غائب تھا۔

رپورٹ کے مطابق کاووے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل نہیں تھا اسلیئے اب اگر حکومت چاہے تو کاووے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کرواسکتی ہے۔
کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) عظمت سعید نے رپورٹ میں ایک معنی خیز نوٹ بھی لکھا کہ مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت گیدڑوں کی موجودگی بھی ہوتی تھی، لیکن گیدڑ بھبھبکیاں انہیں کام کرنے سے نہیں روک سکیں۔
دریں اثنا براڈ شیٹ کے حق میں برطانوی ہائی کورٹ کا بھی نیا حکم آگیا ہے جسکے تحت براڈ شیٹ کو فریزنگ آرڈر براہ راست نیب اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفاتر پہنچانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسکی وجہ بھی برطانیہ میں نیب کی نمائندگی کرنے والے وکلا بنے جنہوں نے دو ماہ سے براڈشیٹ کو کوئی جواب نہ دیا جس پر برطانوی عدالت نے یک طرفہ فیصلہ سنادیا۔

براڈشیٹ کیس کے فریق کاوے موسوی کا واضع طور پر کہنا ہے کہ احتساب کے پاکستانی مشیر کی ناہلیوں کی وجہ سے پاکستان کو اتنا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے حکومت پاکستان کی یو بی ایل لندن کے توسط سے تقریباً ایک ملین پاؤنڈ کی رقم ضبط کی جاچکی ہے اور پاکستان دسمبر 2020 میں براڈ شیٹ کو 28 ملین ڈالر کی رقم ادا کرچکا ہے۔ اور اب براڈ شیٹ نے ایک ملین پاؤنڈ کی بقایا رقم کے حصول کیلئے ہائی کورٹ سے رابطہ کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes