عمران خان کی حکومت کا کردار کشمیر کے مسئلے پر انتہائی مایوس کن ہے؛ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر – Kashmir Link London

عمران خان کی حکومت کا کردار کشمیر کے مسئلے پر انتہائی مایوس کن ہے؛ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیر پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں سرف اسٹیٹس کو بحال رکھنے کے لیے رہ گئی ہیں،اب ہمیں سوچنا ہو گا کہ کون سا بہتر طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ ہم کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کے حصول کی طرف سیکورٹی کونسل سے ہٹ کر کوئی بات کر سکیں اور آگے بڑھ سکیں۔ اس کے لیے کشمیری ڈائسپورہ کو یہاں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر،، مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ڈائسپورہ مل کر اس مقصد کو کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں،ورنہ وہ کشمیری مارے جائیں گے، اُن کی ڈیموگرافی تبدیل ہو جائے گی اور اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔مسلم لیگ ن قائد پاکستان نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کے محفوظ مستقبل کی علامت ہے، نواز شریف بہت جلد پاکستان آ کر تعمیر نو کے سفر کا آغاز کریں گے۔حکومت پاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی سے ہم مطمن نہیں ہیں کیونکہ5 اگست2019 کے بعد حکومت پاکستان کو جو کرنا چاہے تھا وہ نہیں کر پائے۔ کشمیر کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہے کہ وہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بلائے اورسارے مل کر ایک قومی کشمیر پالیسی مرتب کر کے اس کام کو آگے بڑھائیں تاکہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنا حق خودارادیت حاصل کر سکیں۔

ان خیالات کا اظہارراجہ محمد فاروق حیدر خان نے یہاں مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما راجہ طالب ایڈووکیٹ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گیے عشائیہ اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما راجہ ارشد محمود خان کی رہائش گاہ پرجماعتی رہنماؤں اور میڈیا نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان تقریبات میں برطانیہ کے شیڈو منسٹر افضل خان ایم پی، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر(برطانیہ) کے صدر زبیر اقبال کیانی، بیرسٹر افضل ابراہیم، بیرسٹرسردار اسحاق بلوچ، بیرسٹر سید حیدر علی شاہ، بیرسٹر ناصر سردار، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما، سابق ڈی جی کشمیر لبریشن سیل فدا حسین کیانی، مسلم لیگ ن برطانیہ کے رہنماؤں راجہ محمد ارشد خان غازی، راجہ شہاہنواز خان، راجہ محمد رفیق، راجہ ارشد احمد، سید اکمل حسین شاہ، راجہ عبد الرحمان، یوتھ ونگ کے صدر راجہ محمد آصف،راجہ ظہر عباس، راجہ کبیر خان، راجہ صفی اللہ، راجہ شاہنواز، راجہ حق نواز، چوہدری محمد اشتیاق، راجہ خورشید حمید، راجہ شہباز خان، انجینیر راجہ سخاوت خان، سردار جنید الطاف، راجہ شاہد خان، سید اسد شاہ، راجہ محمود خان، راجہ محمود ناز، محمد منشا خان، راجہ منیر خان، راجہ خورشید، راجہ حمزہ خان، راجہ شوکت، حافظ محمد شفیق، راجہ فیضان خان، فیاض اکرم خان، راجہ منیر خان، راجہ عدیل مقصود، راجہ ارشد رانا، راجہ غفارخان اور لیگی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر برطانیہ کے ان رہنماؤں اور کارکنان نے صدر مسلم لیگ ن و سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ بھرپو ر یکجہتی کا اظہار کیا۔

راجہ محمد فاروق حیدر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آزاد کشمیر کے آئین، قانون اور الیکشن کمیشن کے قواعد کی خلاف ورزی کر کے مداخلت کی اور ان کا مذاق اُڑایا، یہ افسوس ناک ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم جو کشمیر کونسل کا چیئرمین بھی ہے وہ آزاد کشمیر کے آئینی اداروں کی توہین کرے۔ عمران خان کی حکومت کا کردار کشمیر کے مسلے پر انتہائی مایوس کن ہے، پاکستان میں الیکشن کے وقت عمران خان کے دعوے کرتے تھے کہ ان کے پاس 200 سے زیادہ ایکسپرٹس کی ٹیم موجود ہے وہ کدھر ہیں، پاکستان کے معاشی و اقتصادی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں، ملک کے اندر سیاسی و نظریاتی بے چینی ہے، زندگی کے ہر شعبے میں مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس سے عام آدمی کا زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان اس وقت مشکل ترین حالات سے دوچار ہے ان تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ پاکستان میں غیر جاندرانہ انتخابات ہوں،آئین کی بالادستی ہو، پارلیمنٹ بااختیار ہو، عدالتیں آزاد ہوں، میڈیا آزاد ہو، آئین و قانون کی بالادستی ہو گی تو ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت بھی بہتر ہو گی اور بیرونی دنیا میں بھی پاکستان کا وقار ہو گا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے رہنماؤں اور کارکنان سے کہا کہ وہ کسی طرح کی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور جماعت کو مضبوط اور منظم کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں، مسلم لیگ ن ریاست کی سب سے بڑی نظریاتی و سیاسی قوت ہے جو میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں تحریک آزادی کشمیر اور خطے کی تعمیرو ترقی کا سفرجاری رکھے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes